History of Kallaral Village Jhaffar - کلــرال نامہ
August 30, 2025
﷽
تاریخ، ورثہ، شجرہ نسب اور عظمت ؛
الحمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمینَ، الَّذی خَلَقَ الإِنسانَ مِن طِینٍ، وَفَضَّلَ بَعضَکُم عَلَی بَعضٍ بِالعِلمِ وَالتَّقویٰ، وَجَعَلَ القَبائلَ وَالشُّعُوبَ لِلتَّعارُفِ وَالتَّواصُلِ، لا لِلْفَخْرِ وَالتَّفاخُرِ۔ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیدِ المُرسَلینَ، رَحْمَةً لِلْعالَمینَ، مُحمَّدٍ المَصطَفَی ﷺ، وَعَلَی آلِهِ وَأصحابِهِ أَجْمَعینَ۔
✨ ابتدائیہ ؛
تاریخ انسانیت ایک زندہ آئینہ ہے جو ماضی کے حقائق موجودہ معاشرت اور مستقبل کی سمتیں عیاں کرتی ہے۔ نسب اور شجرہ محض خون کے رشتے نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور، تہذیبی بنیاد اور اخلاقی اصول کی علامت ہیں۔
قومیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ اپنی جڑوں، روایات اور اصولوں سے جڑی رہتی ہیں اور زوال اس وقت آتا ہے جب وہ اپنی بنیاد سے کٹ جاتی ہیں۔ نسب اور نسل ایک زندہ روایت اور مشترکہ شعور کی بنیاد ہیں جو قوم کی شناخت، اتحاد اور بقا کا سرچشمہ ہیں۔
✨ نسب اور اسلامی ہدایات ؛
رَبُّ کَائِنات نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ؛
> يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
(سورۃ الحجرات، آیت 13)
ترجمہ ؛ "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبائل میں بانٹ دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
مزید فرمایا؛
> وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا
(سورۃ الفرقان، آیت 54)
ترجمہ ؛ "اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب اور سسرالی رشتوں میں جوڑ دیا۔ اور تیرا رب ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔"
رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا ؛
> تَعَلَّمُوا مِن أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ
(مسند احمد، حدیث: 15729)
ترجمہ ؛ "اپنے نسب کو سیکھو تاکہ اس کے ذریعے رشتہ داری قائم رکھ سکو۔"
> مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ
(صحیح بخاری، حدیث: 6766 / صحیح مسلم، حدیث: 63)
ترجمہ ؛ "جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسب جوڑے، اس پر جنت حرام ہے۔"
یہ اصول قوم اور فرد دونوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
✨ تاریخی آئینہ اور فلسفیانہ بصیرت ؛
قومیں صرف افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت، اجتماعی شعور اور مشترکہ اقدار کا حامل ادارہ ہیں ان کی بقا اور عظمت ان کی اصولی بنیادوں عدل و انصاف اور اخلاقی شعور سے مشروط ہے۔
نسب ایک بنیاد ہے، عصبیت ایک طاقت اور تقویٰ ایک روح ہے یہ تینوں عناصر تبھی ایک قوم کو دوام عطا کرتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ متوازن اور مربوط ہوں۔
✨ مقصدِ تصنیف ؛
"کلـرال نامہ" کا مقصد چند بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔
1. تاریخ اور نسب کی روشنی میں خود شناسی ؛
آئندہ آنے والے نسلیں اپنی اصلیت اور آباؤ اجداد کی قربانیوں سے روشناس ہوں تاکہ اپنی ذمہ داریوں اور کردار کی اہمیت سمجھیں۔
2. روایات و اقدار کی حفاظت ؛
قبیلہ کلرال کی حقیقی شناخت، روایات اور اقدار محفوظ رہیں تاکہ اخلاقی اور معاشرتی رہنمائی قائم رہے۔
3. تاریخ سے کردار سازی ؛
تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ نہ سمجھا جائے بلکہ فکری اور اخلاقی بیداری کا آئینہ بنایا جائے۔
4. اخوت و بھائی چارہ اور تقویٰ ؛
قرآن و سنت کی روشنی میں فرد اور قوم کی اصلاح کے لیے بنیادی اصول کو مضبوط کرنا۔
5. فکری بیداری اور شعور کی تقویت ؛
نسلیں اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے جڑی رہیں تاکہ فیصلہ سازی میں بصیرت اور انصاف قائم ہو۔
6. قبیلہ کلرال کی خودی اور اجتماعی طاقت ؛
ہر فرد اپنی خودی اور شعور کو پہچانے تاکہ اجتماعی قوت اور قبیلہ کلرال کی بقا ممکن ہو۔
7. تاریخ کو رہنمائی کا ذریعہ بنانا ؛
تاریخ کو محض قصہ یا واقعات کی جمع آوری نہ سمجھا جائے بلکہ رہنمائی، شعور اور فکری روشنی کے لیے استعمال کیا جائے۔
برائے کلرال نامہ ؛
آلِ کلرشاہ، رتبہ و وقار سے تاباں، کلرال،
عدل و انصاف کے پرچم سے چراغاں، کلرال۔
مشورہ، شوریٰ و اخوت، سرمایۂ تاباں،
اتحاد و یگانگت سے روشن ستارہ، کلرال۔
حریت و آزادی رگوں میں جان و توان،
سر نہ جھکایا ہر دور کے امتحان، کلرال۔
علم و حکمت کا نور ہر قدم تاباں،
ہر راہ میں رہنمائی و نورِ راہ، کلرال۔
غیرت و حمیت کی روایت، زندہ تاباں،
عزت و وقار کا محافظ ہر گھڑی، کلرال۔
شجاعت و بہادری کی داستان ہر عہد بیان،
جان دے کر بھی نبھائے وعدہ و ایمان، کلرال۔
محنت و خودداری کو بنایا مستدام شعار،
عزم و ہمت کا معیار ہر سرزمینِ تاباں، کلرال۔
مہمان نوازی کے گلشن دل میں ہیں تاباں،
ہر دل میں وفا، پیار و الفت کے پیام، کلرال۔
وقار ایڈووکیٹ نے کلرال نامہ میں تاباں کیا،
شان جاویداں، ہر دل میں مشعلِ وقار، کلرال۔
*تعارف کلـرال* ؛
قبیلہ کلرال ایک قدیم اور ممتاز قوم ہے جس کی بنیاد شہزادہ کلرشاہ نے رکھی۔ لفظ "کلر" بانی کی عظمت، دلیری اور قیادت کی نمائندگی کرتا ہے اور "آل" عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں نسل، اولاد یا وراثت شامل ہے اس ترکیب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کلرال دراصل نسلِ کلرشاہ ہیں یعنی وہ افراد جو نہ صرف نسب بلکہ اصول، نظریات اور روحانی ورثے کے محافظ ہیں یہ نسبی اور نظریاتی تعلق قبیلے کو محض خاندانی شناخت سے بڑھا کر ایک فکری، سماجی اور دفاعی وجود میں بدل دیتا ہے کلرال کا ہر فرد اپنی تاریخ، عزت اور اصولوں کے تحفظ کے لیے مستقل مزاج اور وفادار ہے ظلم و ستم کے سامنے سر نہ جھکانا اور اصول پر ڈٹے رہنا قبیلے کی بنیادی فطرت ہے بانی کی شجاعت، حکمت اور جنگی مہارت نے انہیں "سردار" کا خطاب عطا کیا جو آج بھی کلرال کی عظمت، مقام اور وقار کی علامت ہے کلرال میں عصبیت، اجتماعی وحدت اور بھائی چارے کی روایت مضبوط ہے قبیلے کا ہر فرد دکھ اور سکھ میں شریک ہوتا مشکلات میں مدد فراہم کرتا اور اجتماعی فیصلوں میں حصہ لیتا ہے یہ اجتماعی وابستگی اور عصبیت نہ صرف سماجی رشتہ ہے بلکہ تمدن اور ثقافتی شناخت کی ضمانت بھی ہے۔
تاریخی پس منظر ؛
دنیا میں قبائل اور امتیں بے شمار ہیں لیکن کچھ ہی نسلیں ایسی ہیں جن کی وقعت وقت کے طوفانوں اور دشوار حالات کو پار کر کے نسل در نسل زندہ رہتی ہے قبیلہ کلرال انہی بلند مرتبہ اور ممتاز نسلوں میں شمار ہوتا ہے جس کی عظمت، رفعت اور اعتبار ہر دور میں نمایاں رہا ہے قبیلے کی سرزمین، بلند و بالا پہاڑ، سرسبز وادیاں اور ندیوں کے پرسکون بہاؤ نہ صرف قدرتی حسن کا مظہر ہیں بلکہ اس کی دلیری، استقلال، وطن پرستی اور غیرت کی بھی عکاسی کرتے ہیں ہر شجر، ہر پتھر اور ہر وادی قبیلے کے عزم و استقلال، آزادی پسندی اور دین اسلام سے محبت کی داستان بیان کرتا ہے۔
تاریخ کے سخت حالات میں بھی کلرال کے جوان سر نہ جھکاتے ظلم و جور کے سامنے ان کے لہو کی سرخی مظلوموں کے دلوں میں امید اور روشنی کے مشعل روشن کرتی رہی یہ قبیلہ ہر دور میں ظالم حکمرانوں کے لیے کانٹے اور مظلوموں کے لیے ڈھال رہا نوجوان علم و فضل میں شمعِ روشنائی بنے اور بزرگ اپنی بصیرت و تجربے سے معاشرت اور امت کی رہنمائی کرتے رہے نسل در نسل کلرال کی بہادری، علم و فضل، وطن سے وفاداری اور اصول پسندی اسے دیگر قبائل سے ممتاز کرتی ہے ہر نسل نے اپنی مٹی، دین اور اصولوں کی حفاظت کے لیے قربانیاں دی ہیں قبیلے کی غیرت، استقلال، وطن پرستی اور دیانت داری آج بھی ہر دل میں عزت، فخر اور ایمان کے شعلے روشن کرتی ہیں۔
یہ قبیلہ صرف ماضی کی کہانی نہیں بلکہ ہر زمانے کے لیے نمونۂ کامل، آرزو کی منزل اور افتخار کی علامت ہے کلرال کی بہادری اور اصول پسندی کی داستانیں ایسے روشن شعلوں کی مانند ہیں جو ہر دل کو دہکا دیں اور ہر روح میں ولولہ پیدا کریں یہ قبیلہ اپنی تاریخی جڑوں، ثقافتی ورثے اور فکری وقار کے سبب ہر زمانے کے لیے مشعلِ راہ اور عبرت کا سبب ہے کلرال کی زمین، نوجوانوں کی شجاعت، بزرگوں کی بصیرت اور نسلوں کی استقلال پسندی ایک ایسا روشن ورثہ ہیں جو ہر دل پر گہرا اثر ڈالتی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ روشنی بن کر رہتی ہے یہی وراثت قبیلے کو ایک ایسا مقام عطا کرتی ہے جو نہ صرف اپنے زمانے میں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فخر، رہنمائی اور مشعلِ روشنی کا سبب ہے یہ قبیلہ اپنی شجاعت، حریت، اصول پسندی اور وطن پرستی کے امتزاج سے ہر دل میں امید ہر روح میں ولولہ اور ہر نظر میں احترام پیدا کرتا ہے نسل در نسل کلرال روشنی کا مینار رہی اور ہر زمانے کے لیے شجاعت، افتخار اور ایمان کی علامت کے طور پر زندہ و جاوید ہے۔
قبیلہ کلرال کا جغرافیائی پھیلاؤ ؛
جب ہم قبیلوں کے ارتقاء اور ان کے جغرافیائی پھیلاؤ پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ کوئی بھی قبیلہ محض زمین کی مٹی سے جڑا نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی نسلی وحدت، ثقافتی بقا اور اجتماعی شعور کے سبب مختلف خطوں میں وسعت اختیار کرتا ہے یہی معاملہ قبیلہ کلرال کا ہے جس کا آبائی خطہ برصغیر کے وہ پہاڑی سلسلے ہیں جو پٹھوار، گلیات اور کشمیر کے دامن میں پھیلے ہوئے ہیں ان خطوں کی فطری سختی اور زمینی تنوع نے اس قبیلے کو نہ صرف مضبوطی اور صلابت بخشی بلکہ اس کی تہذیبی یکجہتی کو بھی قائم رکھا قبیلہ کلرال کی یہ وحدت ہی ہے کہ وہ جہاں بھی گیا اپنی شناخت، رسم و رواج اور اقدار کو قائم رکھتے ہوئے آباد ہوا۔
اسلام آباد و پنجاب کے علاقے ؛
اہلِ کلرال نے پنجاب کو اپنا ایک اہم مسکن بنایا بلکسر چکوال میں ان کی بڑی آبادی موجود ہے جبکہ گوجرانوالہ کے موضع راہوالی میں بھی یہ قبیلہ پایا جاتا ہے پٹھوار چونکہ کلرال قبیلے کا ابتدائی جغرافیائی مرکز رہا ہے اس لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے گرد و نواح میں ان کی موجودگی کثرت سے نظر آتی ہے ترنول، ملواڑی، بری امام، چک شہزاد، کلرسیداں، شمس آباد، ڈھوک پراچہ، ڈھوک کشمیریاں، گلشن آباد، ٹیکسلا، حسن ابدال اور نور پور وغیرہ وہ علاقے ہیں جہاں اہلِ کلرال نے اپنی بستیاں قائم کیں ان علاقوں کے باشندے اپنی روایات اور لسانی پہچان کو زندہ رکھتے ہیں اور اپنی تہذیب کے امین ہیں۔
خیبر پختون خواہ کے علاقے ؛
قبائل کی فطرت یہ ہے کہ وہ قدرتی رکاوٹوں کو عبور کرکے نئے میدان تلاش کرتے ہیں یہی سبب ہے کہ قبیلہ کلرال نہ صرف صوبہ خیبر پختون خواہ میں اپنے آبائی خطے گلیات اور حویلیاں تک محدود رہا بلکہ صوبے کے مختلف مواضع میں بھی پھیل گیا نوشہرہ میں اس قبیلے کی ایک شاخ آباد ہے، جبکہ ہزارہ ڈویژن میں یہ قبیلہ اپنی کثرت اور اہمیت کے ساتھ نمایاں طور پر موجود ہے ایبٹ آباد کے پہاڑوں اور وادیوں میں کلرال کے مسکن بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ان میں باگن، بانڈی پہاڑ، بانڈی میرا، بگنوتر، بیرن گلی، بوئی، تاجوال، جھافر، دبن، دھنک، ڈبران، ڈنہ نورال، دیسال، رنکوٹ، سرداراں کھوڑیاں، مکول، مالسہ، مجہوہاں، نگری بالا، نمبلی میرا، حاجیہ، گوھرا، چنجاہ، سجی کوٹ اور ناڑہ وغیرہ شامل ہیں یہ وہ علاقے ہیں جہاں یہ قبیلہ ایک طاقتور نسلی اکائی کے طور پر نظر آتا ہے اس کے علاوہ دھمتوڑ، نواں شہر، گلڈھیری، ککوتری، موہار کلاں، کرلی، نڑیاں، ملکپورہ، سردار آباد وغیرہ جیسے مختلف مواضع میں بھی یہ قبیلہ سکونت پذیر ہے۔ اسی طرح مانسہرہ اور ہری پور کے علاقے بھی اس قبیلے کے وجود کے گواہ ہیں، جن میں پانو ڈھیری، یاسین آباد، بالاکوٹ، نیلاں، روشن آباد، ہڑیالہ، اسلام پور، حطار اور خان پور وغیرہ شامل ہیں ہزارہ میں قبیلہ کلرال نے اپنی تہذیب و ثقافت کو اس طرح زندہ رکھا کہ وہ دوسرے مقامی قبائل پر اثر انداز ہوئی ان کی سماجی وحدت اور ثقافتی استقامت نے انہیں نہ صرف اپنی پہچان برقرار رکھنے میں مدد دی بلکہ ایک بااثر اور ممتاز نسلی گروہ کے طور پر بھی ابھارا۔
آزاد و مقبوضہ کشمیر کے علاقے ؛
اہلِ کلرال نے کشمیر کے پہاڑوں میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کیں مقبوضہ کشمیر کے کرناہ اور بارہ مولا کے علاقے ہوں یا آزاد کشمیر کے کہوٹہ، موہری، سیڑھیاں اور چکار، ہر جگہ یہ قبیلہ اپنی وحدت کے ساتھ موجود ہے ان پہاڑی خطوں میں کلرال قبیلے کے افراد نے نہ صرف اپنی روایتی پیشوں کو جاری رکھا بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
بلوچستان کے علاقے ؛
قبیلہ کلرال اپنی وسعت میں بلوچستان تک جا پہنچا۔ کوئٹہ اور پشین کے علاقے خصوصاً ژڑ مچھ ٹوبہ کاکڑی اس قبیلے کے مراکز ہیں یہاں کے کٹھن حالات اور خشک زمین نے بھی کلرال قبیلے کو اپنی محنت اور عزم سے پہچان بنائے رکھنے پر مجبور کیا۔
سندھ کے علاقے ؛
سندھ میں بھی کلرال قبیلے کی موجودگی نظر آتی ہے کراچی جیسے بڑے شہر اور خیر پور رحیم یار خان جیسے علاقے اس قبیلے کی بستیوں کے مراکز ہیں یہاں کے لوگ نہ صرف تجارت اور معیشت میں حصہ لیتے ہیں بلکہ اپنی نسلی اور ثقافتی شناخت کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔
قبیلہ کلرال کا جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی علامت ہے کہ قبیلے کی بقاء صرف ایک مقام پر ٹھہر جانے میں نہیں بلکہ مختلف خطوں میں اپنی تہذیب کو زندہ رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں ہے یہ قبیلہ جہاں بھی گیا وہاں کے وسائل کو اپنے حق میں استعمال کیا اور اپنی نسلی و ثقافتی وحدت کو قائم رکھتے ہوئے اپنی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔
حوالہ جات:
1. شاہ، رحمت اللہ. ہزارہ اور پٹھوار کے قبائل: تاریخی پس منظر. 1985.
2. خان، منظور احمد. "پٹھوار میں قبیلہ کلرال کا آغاز". پاکستانی تاریخی جریدہ, 1992.
3. جعفری، جمیل. ہزارہ کی تاریخ اور کلرال قبیلے کی شناخت. 1990.
4. سلیمان، محسن. بلوچستان میں کلرال قبیلے کی موجودگی اور اثرات. 2019.
5. محمد علی. تاریخ بلوچستان: قبائل اور ثقافت. 1923.
کلرال قبیلے کی عظمت ؛
کلرال قبیلہ صرف اپنے تاریخی ورثے کی وجہ سے اہم نہیں ہے بلکہ اس کی عظمت اس کے افراد کے کردار اور ان کی کامیابیوں میں بھی مضمر ہے قبیلہ کلرال نے اپنے روایات، محنت اور عزم کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی ہے اس کی عظمت کا راز اس کی اجتماعی قربانیوں، بلند اخلاقی اقدار، اور قائدانہ خصوصیات میں ہے قبیلے کے افراد نے ہر دور میں اپنے آپ کو نہ صرف اپنے معاشرتی دائرے میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عزت و وقار کا حامل بنایا ہے ان کی کامیابیاں اور بلند نظریات انہیں ایک عظیم قوم کی علامت بناتی ہیں۔
قبیلہ کلرال کی ثقافت ؛
۱۔ عصبیت اور اجتماعی وحدت ؛
قبیلہ کلرال کی بنیاد عصبیت اور اجتماعی وحدت پر ہے یہ عصبیت ان کے اتحاد شجاعت اور باہمی تعاون میں ظاہر ہوتی ہے مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا سہارا بننا دکھ بانٹنا اور اجتماعی فیصلوں میں شریک ہونا اسی قوت کا ثبوت ہے یہی باہمی وابستگی انہیں زمانے کے نشیب و فراز میں قائم رکھتی ہے عصبیت نہ صرف ایک سماجی رشتہ بلکہ تمدن اور ثقافتی شناخت کی ضمانت ہے۔
۲۔ زبان اور لسانی ہم آہنگی ؛
کلرال قبیلے کی زبان بنیادی طور پر ایک ہے اگرچہ مختلف خطوں میں اس کے نام بدل جاتے ہیں پٹھوار میں یہ پٹھواری کہلاتی ہے ہزارہ میں ہندکوہ اور کشمیر میں پہاڑی یا کشمیری کے نام سے جانی جاتی ہے اگرچہ لہجے اور نام میں کچھ فرق ہے لیکن بنیادی ڈھانچہ یکساں ہے یہی لسانی یکجہتی نسلی وحدت کو مضبوط کرتی ہے اور قبیلے کے افراد کو متحد رکھتی ہے۔
۳۔ لباس اور طرزِ زیست ؛
اہلِ کلرال کا لباس سادگی وقار اور ثقافتی شناخت کا آئینہ دار ہے مرد زیادہ تر سفید شلوار قمیض کے ساتھ کوٹ یا واسکٹ زیب تن کرتے ہیں جو شرافت اور متانت کی علامت ہے خواتین رنگین اور کڑھائی والے ملبوسات پسند کرتی ہیں جو جمالیاتی حس اور ثقافتی ہم آہنگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
۴۔ خوراک اور دیہی ذوق ؛
کلرال کی خوراک ان کے دیہی مزاج اور فطری ذوق کی نمائندہ ہے ان کی خوراک میں گوشت خاص کر شکار کا گوشت اور دیسی مرغ زیادہ پسند کیا جاتا ہے جبکہ مختلف اقسام کی سبزیاں دالیں چاول مکئی اور گندم کی روٹی دیسی گھی اور چائے شامل ہیں مختلف دیسی پھل ان کے دسترخوان کی زینت ہیں ان تمام عناصر میں دیہی سادگی اور فطری ذوق نمایاں ہوتا ہے۔
۵۔ شادی بیاہ اور رسومات ؛
شادی بیاہ اہلِ کلرال کے نزدیک صرف دو افراد کا باہمی تعلق نہیں بلکہ ایک اجتماعی بندھن ہے جو قبیلے کی عصبیت اور ہم آہنگی کو مضبوط کرتا ہے منگنی کا آغاز خواتین کرتی ہیں وہ رشتہ دیکھتی ہیں اور بات آگے بڑھاتی ہیں مرد اس کے بعد شریک ہوتے ہیں اور منگی کی رسم ادا کرتے ہیں شادی کی تاریخ اور دیگر تفصیلات مرد طے کرتے ہیں بارات کے موقع پر ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے جو ایک طرح سے بارات روانگی کی اطلاع ہوتی ہے تاہم اب یہ رسم کم ہو گئی ہے شادی کی محفلوں میں گانے بجانے کی محفلیں بھی ہوتی ہیں ولیمہ ایک کھلی تقریب ہے جس میں مرد عورتیں بچے اور بزرگ سب شریک ہوتے ہیں بارات میں دلہا کو اور ولیمہ میں دلہن کو سلامی دی جاتی ہے ان سلامیوں کے ساتھ مختلف تحائف بھی پیش کیے جاتے ہیں جو محبت اور تعلق کو مزید پختہ کرتے ہیں یوں شادی بیاہ خوشی کی محفل کے ساتھ ساتھ قبیلے کی اجتماعی وحدت اور ثقافتی شناخت کی تجدید کا موقع بھی ہے۔
۶۔ سوگ اور اجتماعی ذمہ داری ؛
فوتگی کی صورت میں کفن دفن اور تین دن تک کھانے پینے کا انتظام متوفی کے اہلِ خانہ پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ دیگر برادری اسے پورا کرتی ہے متوفی کے گھر کا کوئی خرچ نہیں ہوتا تین دن تک سوگ منایا جاتا ہے سب افراد اکٹھے ہو کر اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہیں یہ رویہ باہمی عصبیت اور اخوت کی اعلیٰ مثال ہے۔
۷۔ باہمی تعاون اور دکھ بانٹنا ؛
کلرال کے ہاں باہمی تعاون روزمرہ زندگی کا حصہ ہے کوئی بھی پریشانی میں مبتلا ہو تو سب مل کر اس کا دکھ بانٹتے ہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کی جاتی ہے اور آنے والے اکثر پھل خوراک یا دیگر اشیاء ساتھ لاتے ہیں کچھ افراد نقدی کی مدد بھی کرتے ہیں شادی سوگ یا دیگر رسومات میں سب مل جل کر حصہ لیتے ہیں اور ایک دوسرے کا بوجھ بانٹتے ہیں یہی عصبیت تمدن کی اصل بنیاد اور سماجی رشتوں کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔
۸۔ خاندان میں فیصلہ سازی حق ؛
اہلِ کلرال کے ہاں اہم فیصلے مرد کرتے ہیں اور مردوں میں زیادہ تر اختیار خاندان کے سربراہ کو حاصل ہوتا ہے کوئی حتمی فیصلہ عورت کے دائرے میں نہیں آتا بلکہ مردوں کی آپس میں مشاورت سے طے پاتا ہے یا خاندان کا سربراہ ازخود فیصلہ کرتا ہے جو اختلافات کو ختم کرتا اور قبیلے کو متحد رکھتا ہے۔
قبیلہ کلرال کی روایات و اقدار ؛
۱۔ عدل و انصاف ؛
کلرال قبیلے کی پائیداری اور بقائے باہمی کا دارومدار عدل پر ہے یہ اصول ان کے دل و دماغ میں رچا بسا ہے فیصلہ ہمیشہ حق کے ترازو میں ہوتا ہے طاقت یا نسب کی برتری کا دخل نہیں بلکہ عدل رواج اور اجتماعی حیات کو مضبوط رکھتا ہے۔
۲۔ شوریٰ و مشاورت ؛
قوم کے معاملات تدبر و مشاورت سے سلجھتے ہیں کلرال کے بزرگ اجتماعی شوریٰ کو رہنمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ فیصلے خواہش یا عجلت سے نہیں بلکہ بصیرت و حکمت سے کرتے ہیں یہ روایت اتحاد کو فروغ دیتی ہے اور قبیلے کو زمانے کے طوفانوں میں مستحکم رکھتی ہے۔
۳۔ مساوات و برابری ؛
کلرال قبیلے میں دولت یا نسب کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جاتا عزت و مقام کا معیار محنت کردار اور اخلاق ہے یہی مساوات حسد اور کینہ ختم کر کے اتحاد کو مضبوط کرتی ہے۔
۴۔ حریت و خودداری ؛
آزادی ہر قوم کی روح ہے کلرال نے حریت کو شعار نہیں بلکہ اپنے خون میں شامل کر لیا وہ نہ کسی کے غلام بنتے ہیں اور نہ جبر کو تسلیم کرتے ہیں زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ آدمی اپنی رائے اور عزت پر قائم رہے یہی آزادی انہیں عزت مند اور سربلند رکھتی ہے۔
۵۔ غیرت و حمیت ؛
کلرال فرد اپنی عزت خاندان اور قبیلے کی حرمت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتا ہے یہ غیرت سختی بھی پیدا کرتی ہے مگر غلامی سے بچاتی ہے اور قبیلے کی ناموس کو سلامت رکھتی ہے۔
۶۔ بھائی چارہ و یکجہتی ؛
دکھ اور سکھ میں ایک دوسرے کے دست و بازو ہونا بھائی چارہ کو مضبوط کرتا ہے مصائب میں سب مل کر بوجھ اٹھاتے ہیں یہی رویہ زندگی کو ایک جسم کی مانند بناتا ہے جس کا ہر عضو دوسرے کی خبر رکھتا ہے۔
۷۔ صبر و درگزر ؛
مشکلات میں صبر اور دوسروں کی لغزشوں پر درگزر کلرال کی اعلیٰ صفات ہیں سختی کے باوجود دل کو کینہ سے پاک رکھتے ہیں تحمل ان کے وقار اور اعلیٰ ظرفی کی دلیل ہے۔
۸۔ امن و رواداری ؛
قبیلہ کلرال صلح و آشتی کو مقدم رکھتا ہے عظمت تلوار کے زور میں نہیں بلکہ حسنِ سلوک میں ہے یہی رواداری انہیں ہمسایہ قوموں میں عزت بخشتی ہے اور مہذب و بردبار گروہ کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔
۹۔ علم و فہم کی جستجو ؛
تعلیم اور فہم قبیلے کی ترقی کا راز ہیں بزرگ نصیحت کرتے ہیں کہ علم حاصل کرو یہ تمہیں باقی قوموں سے ممتاز کرے گا یہی سبب ہے کہ لوگ مختلف شعبہ جات میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔
۱۰۔ مہمان نوازی ؛
مہمان خواہ اجنبی ہو یا قریبی عزت اور محبت سے نوازا جاتا ہے کھانے رہائش اور خدمت میں بخل نہیں برتا جاتا یہی وصف شرافت اور بلند ظرفی کی دلیل ہے۔
۱۱۔ دیانت و وفاداری ؛
دیانتداری ہر ذمہ داری کی بنیاد ہے قول و قرار اور ذمہ داریوں میں وفاداری باہمی اعتماد کو جنم دیتی ہے اور قبیلے کو مضبوط رکھتی ہے۔
۱۲۔ شجاعت و محنت ؛
تاریخ بہادری اور شجاعت سے لبریز ہے وطن اور قبیلے کے دفاع میں جانیں نچھاور کرتے ہیں محنت اور خود کفالت معیشت کا ستون ہیں کھیتی باڑی ہو یا تجارت قوت بازو سے روزی کماتے ہیں یہی شجاعت اور محنت ان کے وجود کو زندہ اور تابندہ رکھتی ہے۔
حوالہ جات ؛
1. بلینک، جان (1513). Tribes and Tribal Law in the Islamic World۔ لندن: Oxford University Press.
2. ابن خلدون (1550). المقدمة۔ بیروت: دارالفکر۔
3. سمتھ، ایڈورڈ (1852). Tribal Cultures of the Indian Subcontinent۔ لندن: Routledge.
شہزادہ کلرشاہ کی تاریخی زندگی: ایک تحقیقی جائزہ ؛
شہزادہ کلرشاہ، جو خوارزم شاہی سلطنت کے ایک اہم ترین شخصیت تھے، کی زندگی ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک ان کے کردار نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات آج بھی تاریخی حوالوں میں زندہ ہیں شہزادہ کلرشاہ کی حکمت عملی، بہادری، قیادت، اور تعمیراتی کاموں نے انہیں ایک اہم مقام دیا خاص طور پر ہندوستان میں ان کی آمد کے بعد ان کے کارنامے اس خطے کی تاریخ کا ایک نمایاں حصہ بن گئے۔
شجرہ نسبِ شہزادہ کلرشاہ ؛
شہزادہ کلرشاہ کی نسل کی بنیاد ایک طویل شجرہ نسب پر ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے ان کے آبا و اجداد کا سلسلہ اس قدر قدیم اور مستحکم تھا کہ یہ خوارزم شاہی سلطنت میں اہمیت رکھتے تھے۔ ان کے شجرہ نسب کی تفصیل کچھ اس طرح ہے ؛
تفصیل شجرہ نسب بالترتیب از سلف تا خلف
→ حضرت ابراہیم علیہ السلام
│
1 → حضرت اسحاق علیہ السلام
│
2 → حضرت عیصؑ
│
3 → رعوایل
│
4 → زارح
│
5 → حضرت ایوب علیہ السلام
│
6 → حومل
│
7 → بشر عرف ذوالکفل
│
8 → عبدان
│
9 → ارغوس
│
10 → الکینس
│
11 → پرسینس
│
12 → انفی تریون
│
13 → ہرقلئیس
│
14 → ہائی لیس
│
15 → ذوتھینس
│
16 → آئی الیکس
│
17 → ایوئینس
│
18 → پردکاس اول
│
19 → کلائینس
│
20 → انیطس
│
21 → امن تاس اول
│
22 → سکندر اول
│
23 → طرطیوس
│
24 → پردکاس ثانی
│
25 → شارارکیلوس
│
26 → امن تاس ثانی
│
27 → قیلقوس
│
28 → سکندر اعظم
│
29 → اسکندروس
│
30 → اسکائنس (ساکا)
│
31 → سوفاگنیئس
│
32 → رجائنیس
│
33 → شاہ گنجئس (المعروف گنج)
│
34 → کویدشاہ
│
35 → کورشاہ
│
36 → زین العابدین
│
37 → سلطان صدرالدین
│
38 → بدرالدین
│
39 → قطب شاہ
│
40 → شاہجہان رومنی
│
41 → بروچرشاہ
│
42 → سوجان شاہ (عرف تلوچن شاہ)
│
43 → کلرشاہ
حوالہ جات ؛
1. تورات تاریخ ابنِ کثیر
(البدایہ والنہایہ) – حافظ ابن کثیر (1371ء)
2. کتاب العبر – ابن خلدون (1377ء)
3. الکامل فی التاریخ – ابن اثیر (1231ء)
نوٹ ؛
کتابِ تاریخ طبری میں سکندر اعظم سے حضرت عیصؑ تک کا شجرہ نسب کچھ حد تک مختلف بیان کیا گیا ہے، تاہم دیگر تین کتب میں یہ سلسلہ ایک جیسا درج ہے اس لیے شجرہ نسب میں اکثریت کی روشنی میں وہی ترتیب شامل کی گئی ہے جو زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔
شہزادہ کلرشاہ کی ابتدائی زندگی ؛
خوارزم کی سلطنت کے مستحکم اور معتبر دور میں جب علم و حکمت، سیاست و عدل اور فنونِ حرب کی روشنی ہر گوشے میں پھیل رہی تھی، محل کے شاہانہ ماحول میں ایک صاحبِ وقار شہزادے کی ولادت سال 1185ء میں ہوئی یہ شہزادہ بعد میں کلرشاہ کے نام سے یاد کیے گئے محل کے ہر کمرے، باغ اور بلند مینار ان کی آمد کی خوشی سے روشن تھے اور تاریخ کے صفحات ایک نئے باب کی جانب پلٹ رہے تھے شہزادے کے والد سوجان شاہ اپنے عہد کے دوراندیش اور دانشور حکمران تھے ان کی شخصیت میں عدل، شجاعت اور علم دوستی کے اعلیٰ اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے اور انہی خصلتوں نے شہزادے کی ابتدائی پرورش پر گہرا اثر ڈالا بچپن ہی سے کلرشاہ کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک اور ذہانت کی جھلک نظر آنے لگی اہلِ دانش و علم ان کے وقار اور بصیرت کو دیکھ کر کہتے تھے کہ یہ شہزادہ تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گا شاہانہ ماحول میں پروان چڑھنے والے کلرشاہ کی ابتدائی تربیت ایک جامع اور متوازن نظام کے تحت کی گئی استاد انہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل و مساوات کے اصول سکھاتے اخلاقیات اور حکمرانی کی تعلیم دیتے جبکہ ماہر سپہ سالار گھڑسواری، تیر اندازی، تلوار بازی اور دیگر جنگی مہارتوں میں ان کی مہارت کو فروغ دیتے محل کے باغات میں صبح کے وقت شہزادہ گھوڑے پر سوار ہو کر تیز رفتار مشقیں کرتے تیر اندازی میں نشانہ لگانے کی مشق کرتے اور محل کے بڑے میدانوں میں تلوار بازی کے مناظر میں حصہ لیتے۔ ان کھیلوں اور مشقوں میں نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ حوصلہ، حکمت عملی اور ہوشیاری بھی پروان چڑھتی کلرشاہ کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا علم سے شوق اور غور و فکر کی عادت تھی وہ کھیل کود میں محض جسمانی مشق کے لیے حصہ لیتے مگر کتابوں اور علماء کی صحبت میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے محل کے باغات میں بیٹھ کر وہ تاریخ، فلسفہ اور حکمرانی کے اصولوں پر غور کرتے ہر لمحہ، ہر منظر اور ہر سبق ان کی شخصیت کی تشکیل میں حصہ لے رہا تھا ان کی ابتدائی زندگی یہ واضح کرتی ہے کہ حقیقی قیادت صرف نسب یا طاقت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ علم، تربیت، عدل اور کردار کے حسین امتزاج سے پروان چڑھتی ہے ایک مہذب اور باوقار ماحول والدین کی بصیرت، استادوں کی رہنمائی اور جنگی تربیت کس طرح ایک عظیم شخصیت کو سنوارتی ہے یہ تمام عوامل شہزادہ کلرشاہ کی زندگی میں بخوبی نظر آتے ہیں کلرشاہ کی تعلیم و تربیت ایرانی شاہی دربار کی روایات کے مطابق ہوئی جہاں انہیں حکمرانی، جنگی حکمت عملی، اسلامی فقہ، اور فارسی ادب کی تعلیم دی گئی اس دوران انہوں نے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی جو ان کی دینی حکمت میں اضافے کا باعث بنی ایرانی دربار میں ادب اور فنون کی اہمیت تھی جس سے کلرشاہ کی شخصیت میں ثقافتی گہرائی آئی کلرشاہ کو حکمرانی کے تمام اہم شعبوں کی تربیت دی گئی اور ایران سے ہندوستان ہجرت کے دوران مختلف ثقافتوں اور سیاسی نظاموں کا مشاہدہ کرنے سے ان کی حکومتی حکمت میں اضافہ ہوا ان کی تعلیمات میں داخلی حکمرانی کے ساتھ ساتھ خارجی تعلقات، فوجی حکمت عملی اور معاشی ترقی کی تربیت بھی شامل تھی۔
شہزادہ کلرشاہ کی ہجرت اور کلرسیداں کی بنیاد ؛
تاریخ کے اوراق میں 1219ء ایک ایسا سال ہے جو خونریز یلغار اور تہذیبی المیوں کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اسی برس چنگیز خان کی طوفانی یلغار نے خوارزم شاہی سلطنت کو نیست و نابود کر دیا شاندار محلات اور مضبوط قلعے راکھ کا ڈھیر بن گئے اور وہ سلطنت جو کبھی عروج کی علامت تھی، صفحۂ ہستی سے مٹ گئی اسی تباہی کے عالم میں سلطنت کے شہزادگان اور امراء مختلف اطراف کو ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے انہی جلیل القدر شہزادوں میں ایک نام شہزادہ کلرشاہ کا بھی تھا وہ اپنے خاندان اور ہمراہیوں کو ساتھ لے کر سرزمینِ ہند کی طرف روانہ ہوئے تاکہ ایک نئی زندگی کا آغاز کیا جا سکے اس وقت دہلی کے تخت پر سلطان شمس الدین التمش (1211ء–1236ء) حکمران تھے۔ شہزادہ کلرشاہ دیگر شہزادگانِ خوارزم کی مانند دہلی سلطنت کی پناہ میں آئے مگر اپنی مجاہدانہ تربیت اور شجاعانہ شخصیت اور وسیع العلم و بصیرت کے باعث دربار میں سب سے نمایاں دکھائی دیے سلطان التمش نے ان کے جاہ و جلال اور وقار کو دیکھتے ہوئے 1221ء میں خطہ پٹھوار بطور شاہی تحفہ مرحمت فرمایا۔
شہزادہ کلرشاہ نے اپنے خاندان کے ہمراہ خطہ پٹھوار کے خوبصورت اور زرخیز مقام کلرسیداں کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں ایک عظیم و محفوظ قلعہ تعمیر کروایا جو ان کے شاہی جاہ و جلال اور بصیرت کی علامت ٹھہرا۔ رفتہ رفتہ یہ خطہ ان کے نام سے موسوم ہو کر کلرسیداں کہلایا اور آج تک ان کے نام کی تابندہ یادگار ہے۔
حوالہ جات ؛
1-ابن انشا، نادر. "دورانِ ایران و ہندوستان: ایک تاریخی مطالعہ" (شائع 1575)
2- "تاریخِ ہزاری"
سال: 1595مؤلف: مولوی عبدالحکیم
3- "تاریخِ اسلام"
سال: 1377 مؤلف: ابن بطوطہ
5- "البدایہ و النہایہ"سال: 1368
مؤلف: ابن کثیر
شہزادہ کلرشاہ کے اوصاف ؛
1. حکمت و بصیرت ؛
شہزادہ کلرشاہ کا فیصلہ سازی میں گہرا اثر تھا ان کی جنگی حکمت عملی اور دفاعی منصوبہ بندی کی بدولت وہ میدان جنگ میں کامیاب رہے ان کے فیصلے ہمیشہ دانشمندی اور گہرائی سے بھرپور ہوتے تھے۔
2. بہادری ؛
شہزادہ کلرشاہ کی زندگی میں بہادری ایک اہم وصف تھا ان کی جنگوں اور عسکری حکمت عملی نے انہیں ایک عظیم جنگجو بنا دیا۔ میدان جنگ میں ان کی قیادت نے کئی اہم فتوحات حاصل کیں۔
3. قیادت کی صلاحیت ؛
شہزادہ کلرشاہ کی قیادت کی صلاحیت بے مثال تھی انہوں نے اپنے علاقے کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قلعے تعمیر کروائے اور دفاعی نظام میں اصلاحات کیں۔
4. عادل حکمران ؛
شہزادہ کلرشاہ اپنے عوام کے حقوق کا ہمیشہ احترام کرتے تھے اور ان کی حکمرانی میں انصاف اور عدل کا قیام عمل میں آیا۔
5. جنگی مہارت ؛
شہزادہ کلرشاہ نے بہترین عسکری تربیت حاصل کی تھی اور ان کی قیادت میں جنگیں جیتنا آسان ہو گیا تھا۔
6. وفاداری اور امانت داری ؛
کلر شاہ نے ہمیشہ وفاداری نبھائی اور اپنے وعدوں کو پورا کیا۔
7. ثقافت و تعلیم کا احترام ؛
شہزادہ کلرشاہ نے اپنی حکمرانی میں ثقافت و تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے فروغ کے لئے اقدامات کیے۔
8. فطری قائدانہ صلاحیت ؛
شہزادہ کلرشاہ کی فطری قائدانہ صلاحیت اور ان کی جرأت نے انہیں ایک طاقتور حکمران بنایا۔
کلرشاہ کا اعزاز ؛ سردار کا خطاب ؛
جب کلرشاہ بن سوجان شاہ کو اہم علاقے کا گورنر مقرر کیا گیا، تو انہوں نے فوراً اپنے حکمرانی کے فرائض سنجیدگی اور دوراندیشی کے ساتھ سنبھالے انہوں نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے مضبوط قلعے تعمیر کروائے، جو دشمن کی نگاہ سے محفوظ تھے اور علاقے کی سلامتی کی علامت بن گئے کلرشاہ نے اپنے زیرِ کمان مجاہدین کو منظم فوجی تربیت دی اور انہیں جنگی مشقوں میں حصہ لینے کی مہارت سکھائی جس سے فوج کی طاقت، حوصلہ اور حکمت عملی میں اضافہ ہوا ان کی غیر معمولی تدبیر، بہادری اور منصوبہ بندی نے نہ صرف فوجی میدان میں بلکہ انتظامی امور میں بھی ان کی قابلیت کو نمایاں کیا ان کے ان کارناموں سے متاثر ہو کر، سلطان شمس الدین التمش نے انہیں " سردار " کا شرفی خطاب عطا کیا جس کے بعد وہ سردار کلرشاہ کے نام سے مشہور ہو گئے یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی شجاعت اور حکمت کی توثیق تھا بلکہ علاقے میں ان کی قیادت کو تاریخی اہمیت بھی عطا کی سردار کلرشاہ نے اپنے گورنری دور میں انتظامی امور اور فوجی تیاریوں میں مثال قائم کی اور علاقے میں امن و امان قائم کرتے ہوئے اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں عدل و انصاف کی مضبوط مثال دکھائی ان کی قیادت میں فوج کی استعداد اور حکمت عملی کی مہارتیں بڑھیں اور ان کے فیصلے علاقے کی سیاست اور سماج پر دیرپا اثر چھوڑنے والے ثابت ہوئے ان کے بیٹے بھی ابتدائی عمر سے ہی والد کی شجاعت اور حکمت سے متاثر ہوئے انہوں نے سردار کلرشاہ کے نقش قدم پر چل کر علاقے کے دفاع اور انتظامی ذمہ داریوں کو سنبھالنا سیکھا۔ سردار کلرشاہ کے بیٹوں کی تربیت میں نہ صرف جنگی مہارت بلکہ علم، انصاف اور قیادت کی تربیت بھی شامل تھی تاکہ ان کی قیادت کی روشنی آئندہ نسلوں تک قائم رہے یہ تاریخی باب سردار کلرشاہ کی قیادت، بہادری، تدبر اور انتظامی و فوجی صلاحیتوں کی روشن داستان ہے، جس نے علاقے کی سیاست، سماج اور دفاع پر دائمی اثر چھوڑا۔
حوالہ جات ؛
1- "تاریخِ ہزاری" مؤلف: مولوی عبدالحکیم سال: 1595
2.اقوام پاکستان کا انسائیکلو پیڈیا۔
کلرشاہ کی تعمیرات اور تاریخی ورثہ ؛
کلرشاہ کی حکمرانی کے دوران کئی اہم تعمیرات ہوئیں جنہوں نے نہ صرف دفاعی حیثیت کو بڑھایا بلکہ حکومتی استحکام اور جنگی حکمت عملی کو بھی مضبوط کیا ان کے دور میں تعمیر کیے گئے قلعے اور دیگر عمارتیں آج بھی ان کی حکومتی حکمت عملی اور ترقیاتی اقدامات کی گواہی دیتی ہیں ان اہم تعمیرات میں شامل ہیں:
1. قلعہ کلر سیداں ؛
یہ قلعہ کلرشاہ کے دور میں اہم عسکری مرکز تھا اور اس کی دفاعی اہمیت کا کسی بھی جنگ کے دوران پورے علاقے پر اثر پڑا۔
2. قلعہ بلکسر ؛
بلکسر کا قلعہ بھی کلرشاہ کی حکمت عملی کا ایک اہم جزو تھا جو اس نے جنگی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کے لیے تعمیر کیا
نوٹ۔ ( اس قلعے کا نام کلرشاہ کے بیٹے بل خان سے مشہور ہو کر بعد ازاں بلکسر مشہور ہوا۔)
3. قلعہ کہوٹہ ؛
اس قلعے کا مقصد علاقے کی فوجی طاقت کو بڑھانا اور حکومتی استحکام کو قائم رکھنا تھا۔
4. قلعہ گجرات ؛
یہ قلعہ کلرشاہ کے دور کی انتظامی طاقت کا عکاس تھا اور اس نے علاقے میں حکومتی معاملات کی نگرانی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
کلرشاہ نے مساجد اور تعلیمی ؛ ادارے بھی قائم کیے جن میں کلر مسجد دہلی (1245ء) اور مدرسہ کلر سیداں (1255ء) شامل ہیں ان مساجد اور مدارس کا مقصد نہ صرف مذہبی عبادت تھا بلکہ علمی اور ثقافتی ترقی بھی تھی۔
دیگر تعمیرات ؛
کلرشاہ نے کلر کہار اور گرد و نواح میں کئی حفاظتی چوکیاں اور کاروان سرائیں تعمیر کیں۔
کلرشاہ کے نام سے موسوم علاقہ جات ؛
1. کلر سیداں (ضلع راولپنڈی) ؛ یہ علاقہ کلرال قبیلے کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کلرشاہ یا ان کے پیروکاروں کے یہاں آباد ہونے کا امکان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے "کلر" کا لفظ اس کے نام میں شامل ہو سکتا ہے۔
حوالہ:
"The Gazetteer of Rawalpindi District" (British Raj), 1910.
2. کلر کہار (ضلع چکوال) ؛
یہ مقام اپنی قدرتی جھیل، پہاڑی علاقوں اور خوشگوار آب و ہوا کے لیے مشہور ہے "کلر" کا لاحقہ اس امکان کو بڑھاتا ہے کہ کلرال قبیلہ یا کلرشاہ کے کسی گروہ نے یہاں قیام کیا ہو کچھ مؤرخین کے مطابق یہاں کلرال قبیلے کی کچھ شاخیں صدیوں پہلے بسیرا کر چکی تھیں۔
حوالہ ؛
"The Gazetteer of Chakwal District" (British Raj), 1910.
3. کلر کنڈ (ہزارہ اور پوٹھوہار کے مختلف علاقے) ؛
یہ مقامات مختلف چھوٹے دیہات یا زمینوں کے ٹکڑوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں جہاں مقامی کلرال خاندان آباد رہے ہوں گے بعض زبانی روایات کے مطابق کلرال قبیلے کے بعض گروہ ان مقامات پر سکونت پذیر تھے اور یہ نام انہی کی نسبت سے رکھا گیا۔
حوالہ ؛
"History of Hazara and Pothohar" by Dr. Muhammad Yousaf (1985).
4. کلر والی (ضلع گجرات) ؛
یہ گاؤں کلرال قبیلے کے افراد کی قدیم رہائش گاہوں میں شمار ہوتا ہے یہاں کے مقامی باشندے کلرشاہ سے منسلک اپنی روایات کا تذکرہ کرتے ہیں اگرچہ اس کی کوئی تحریری شہادت نہیں ملتی۔
حوالہ ؛
"History of Gujrat" by Dr. Hafeez-ur-Rehman, 1995.
5. کلر کٹڑہ (ضلع سیالکوٹ) ؛ سیالکوٹ تاریخی طور پر مختلف قبائل کا مرکز رہا ہے جہاں کلرال قبیلہ بھی اپنی موجودگی رکھتا تھا "کلر" سے مشابہت رکھنے والے علاقوں کے نام اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ یہاں کلرال قبیلے کی پرانی آبادیاں موجود رہی ہوں گی۔
حوالہ ؛
"Historical Background of Sialkot" by Muhammad Ashraf, 1980.
6. کلر دیو (ہریانہ، بھارت) ؛ ہریانہ، جو تاریخی طور پر برصغیر کے کئی طاقتور قبائل کا مسکن رہا ہے، وہاں بھی "کلر" نام کے مقامات پائے جاتے ہیں۔ ممکنہ طور پر کلرشاہ کے پیروکاروں نے اس علاقے میں ہجرت کی اور وہاں ان کی شناخت برقرار رہی۔
حوالہ؛
"History of Haryana" by Dr. R.S. Kharb, 1992.
کلرشاہ کی وفات اور مقبرہ ؛
شہزادہ کلرشاہ نے 1284ء میں 99 برس کی عمر میں اس دارِفانی کو خیر آباد کہا اور خالق حقیقی سے جا ملے ان کے مدفن کے بارے میں مختلف آراء ہیں تاہم سب سے مستند روایت کے مطابق ان کا مقبرہ پوٹھوہار کے علاقے کلر سیداں میں واقع ہے۔
حوالہ ؛
1. "تاریخِ ہزاری" مؤلف: مولوی عبدالحکیم سال: 1595
کلر شاہ کے صاحبزادگان اور ان کی اولاد کا جغرافیائی پس منظر
شہزادہ کلرشاہ کے صاحبزادگان ؛
1. سردار جیا خان ؛
جیا خان کی نسل زیادہ تر تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کے مقام ناڑہ ستوڑا اور اس کے قرب و جوار میں آباد ہے جبکہ کچھ خاندان خطۂ پٹھوار اور دیگر مختلف مقامات پر بھی سکونت پذیر ہیں۔
2. سردار طغلو خان ؛
طغلو خان کی نسل تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کے علاقے بڈپین اور اس کے ملحقہ دیہات میں آباد ہے جبکہ بعض خاندان پٹھوار اور دیگر خطوں میں مقیم ہیں۔
3.سردار بٙل خان ؛
بٙل خان نے خطۂ پٹھوار سے ہجرت کر کے پنجاب کے شہر چکوال میں سکونت اختیار کی ان کے نام پر وہاں کا ایک مقام بلکسر مشہور ہوا جو آج بھی اسی تاریخی نسبت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
4. سردار مٙل خان ؛
مٙل خان کی نسل زیادہ تر گلیات، ضلع ایبٹ آباد میں رہائش پذیر ہے جبکہ ان کے کچھ خاندان خطۂ پٹھوار (راولپنڈی و اسلام آباد) اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی آباد ہیں۔
قبیلہ کلرال کے بانی شہزادہ کلرشاہ کی نسل میں سے سردار مَل خان ایک جلیل القدر شخصیت تھے ان کی اولاد مسلسل سات پشتوں تک خطہ پٹھوار (موجودہ راولپنڈی ڈویژن اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد) میں مقیم رہی اور یہیں مدفون ہوئی اُس دور میں خطہ پٹھوار اپنی وسعت میں کشمیر تک پھیلا ہوا تھا اور موجودہ گلیات بھی اسی خطے کا حصہ تصور ہوتا تھا۔
شجرہ نسب (سردار کلرشاہ تا سردار راجنگ خان) ؛
نوٹ ؛
یہ شجرہ نسب سردار راجنگ خان کی طرف جانے والی شاخ کی حد تک محدود ہے دیگر شاخیں اور بزرگوں کے شجرے اس تحریر میں شامل نہیں کیے گئے۔
→ سردار کلرشاہ
│
1 → سردار مَل خان
│
2 → سردار لدھیر خان
│
3 → سردار جہگیر خان
│
4 → سردار سریر خان
│
5 → سردار پیہلے خان اوّل
│
6 → سردار مکون خان
│
7 → سردار بنی خان
│
8 → سردار پیہلے خان ثانی
│
9 → سردار راجنگ خان۔
حوالہ جات ؛
یہ شجرہ نسب قومی محفوظ شجرہ ہے جو بندوبست 1872ء کے محافظ خانہ میں محفوظ شجروں سے حاصل کیا گیا اور موجودہ طور پر یہ شجرہ میوزیم لائبریری، پشاور میں محفوظ ہے۔ شجرہ کی ترتیب میں تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے درست نسلوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
(کلکلتہ کی شجرہ میوزیم لائبریری میں بھی اس شجرہ کی نقل محفوظ ہے۔)
قبیلہ کلرال کی تاریخ – سردارِ اوّل گلیات ؛
گلیات کی فضاؤں میں جب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو سب سے پہلا نام جو سنہرے حروف میں جھلملاتا ہے وہ ہے سردار راجنگ خان کا وہ گلیات کے پہلے سردار تھے جنہیں تاریخ ہمیشہ "سردارِ اوّل گلیات" کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
بنی سردار راجنگ خان بن سردار پیہلے خان ثانی ؛
(سردارِ اوّل علاقہ گلیات)
(( گاؤں بکوٹ کی آباد کاری سال 1488ء )) ؛
سردار راجنگ خان 1443ء میں خطہ پٹھوار میں ہوئے یہ قبیلہ کلرال کے بانی شہزادہ کلرشاہ کی نویں پشت میں سے تھے سردار راجنگ نے 1488ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ گلیات میں بکوٹ کے مقام پر سکونت اختیار کی ان کی شخصیت شجاعت، غیرت، بصیرت اور عدل کا حسین امتزاج تھی ان کے فیصلے حکمت و دانائی پر مبنی ہوتے اور ان کی قیادت نے قبیلہ کلرال کو گلیات کی پہاڑی سرزمین پر استحکام بخشا وہ نہ صرف ایک مدبر سردار تھے بلکہ رعایا کے لیے سایۂ رحمت بھی ثابت ہوئے ان کی قیادت کے باعث قبیلہ کلرال کی بنیادیں گلیات میں مضبوط ہوئیں اور ان کا نام پہاڑوں کی چوٹیوں سے وادیوں کی گہرائیوں تک گونجنے لگا اللہ تعالیٰ نے سردار راجنگ خان کو چار ایسے فرزند عطا کیے جو اپنی دلیری، جرات اور شان کے باعث تاریخ میں امر ہو گئے۔
صاحبزادگان ؛
سردار راجنگ خان کے چار صاحبزادے تھے۔
1. سردار بیرسی خان ؛
سردار بیرسی خان کو اپنے والد کی وفات کے بعد سرداری کا منصب عطا ہوا وہ نہ صرف بہادر جنگجو اور مجاہدانہ صلاحیتوں کے مالک سردار تھے بلکہ ایک اللہ والے بزرگ کے طور پر مشہور ہوئے ان کی بیٹھک کی نشانی آج بھی بکوٹ میں موجود ہے جس کی چاردیواری کے اندر جنگلی زیتون کے درخت ایستادہ ہیں۔
2. سردار ویسرا خان ؛
سردار بیرسی خان کے انتقال کے بعد سردار ویسرا خان خطہ گلیات کے حاکم مقرر ہوئے وہ نہایت ذہین، دوراندیش، نڈر اور مدبر سردار تھے حریت پسندی اور قیادت کی اعلیٰ صفات نے انہیں ایک عظیم رہنما کے طور پر امر کر دیا۔
3. سردار امیردی خان ؛
سردار امیردی خان اپنی جنگی مہارت اور شجاعت کے باعث قبیلے کے بہادر مجاہد اور سپہ سالار کے طور پر جانے گئے۔
4. سردار ساہن خان ؛
سردار ساہن خان غیرت و حمیت اور وفاداری کے پیکر تھے اپنی استقامت اور عزم کی بدولت قبیلے میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔
یہ چاروں بھائی اپنے وقت میں قبیلہ کلرال کی آن، بان اور شان تھے اور اپنے والد کی عظیم وراثت کے سچے وارث ثابت ہوئے۔
بکوٹ :- مقابرِ سرداران ؛
وقت کے دھارے نے جب ان جلیل القدر شخصیات کو اپنے دامن میں سمویا تو ان کی آخری آرام گاہ بکوٹ بنی یہی وہ مقدس زمین ہے جہاں آج بھی سردار راجنگ خان اور ان کے چاروں فرزند مدفون ہیں بکوٹ کی فضائیں ان مقابر کی بدولت عظمت اور فخر کا استعارہ ہیں ان قبور کے آثار اس بات کی زندہ شہادت ہیں کہ یہاں وہ سرداران آسودۂ خاک ہیں جنہوں نے اپنی بہادری، غیرت اور دانائی سے گلیات کی تاریخ کو سنہری ابواب عطا کیے اور یوں سردار راجنگ خان اور ان کے بیٹے قبیلہ کلرال کی تاریخ کے وہ درخشاں چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی نسل در نسل راہنمائی فراہم کر رہی ہے۔
سردار راجنگ خان کو تاریخ ہمیشہ "سردارِ اوّل گلیات" کے لقب سے یاد کرے گی اور بکوٹ ان کے اور ان کے فرزندوں کے مقابر کی صورت میں ایک دائمی یادگار کے طور پر قیامت تک تاریخ کی گواہی دیتا رہے گا۔
بنی سردار ویسرا خان بن سردار راجنگ خان ؛
سنہری دور کی یادگار ایک داستان ہے جب پہاڑوں کی سرسبز وادیوں اور گلیات کی دشوار راہوں میں قبیلہ کلرال اپنی بہادری، غیرت اور دانائی کے باعث ممتاز تھا اس وقت قبیلے کی قیادت ایک جلیل القدر سردار ویسرا خان کے ہاتھ میں تھی جنہوں نے اپنے عدل، حکمت اور شجاعت سے نہ صرف اپنی زمین اور رعایا کا تحفظ کیا بلکہ اپنے قبیلے کی شہرت اور اثر و رسوخ کو دور دور تک پھیلایا ویسرا خان کی وفات کے بعد سرداری ان کی اولاد میں منتقل ہوئی اور نسل در نسل چلتی رہی تاریخ کے اوراق میں کہا گیا ہے کہ ویسرا خان کے بعد ان کے تین بیٹے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبیلے کی عظمت کے نایاب ستون بنے۔
صاحبزادگان ؛
سردار ویسرا خان کے تین صاحبزادے تھے۔
1. سردار لکھو خان ؛
سردار ویسرا خان کے بڑے صاحبزادے سردار لکھو خان اپنے زمانے کے ایک نمایاں اور جلیل القدر سردار تھے سردار لکھو خان کی قیادت میں قبیلہ کلرال ہمیشہ متحد رہا وہ فیصلوں میں دانائی اور تدبر کے مالک تھے اور ان کی موجودگی میں قبیلے کے جوان اپنی جانیں پیش کرنے کے لیے بے خوف میدان میں اُترتے دشمن کے سامنے ان کی جرات اور بہادری کی مثالیں صدیوں تک بیان کی جاتی رہیں ان کی آنکھوں میں غیرت کی چمک اور دل میں قبیلے کے وقار کی حفاظت کا عزم ہمیشہ روشن رہتا سردار لکھو خان کی شخصیت میں وہ وقار تھا جو ہر مجلس اور ہر میدانِ جنگ میں نمایاں رہتا ان کی موجودگی قبیلے کے لیے روشنی اور دشمن کے لیے رعب تھی ان کے زیرِ قیادت قبیلہ کلرال کی حدود محفوظ رہیں اور ان کے نام کی روشنی آج بھی نسل در نسل فخر کی علامت ہے۔
2. سردار فوجو خان ؛
دوسرے صاحبزادے سردار فوجو خان کو جنگ و جدل اور سپاہیانہ شجاعت میں ممتاز مقام حاصل تھا وہ میدانِ جنگ کے نہایت ماہر رہنما تھے اور دشمن کی صفوں میں خوف کی لہر دوڑا دیتے تھے ان کی بہادری اور غیرت کی داستانیں قبیلے کی ہر بستی میں سنائی جاتی تھیں وہ دشمن کو شکست دینے اور قبیلے کے وقار کو بلند کرنے میں کبھی پیچھے نہ ہٹتے فوجو خان کی بہادری نے نہ صرف قبیلے کے جوانوں کے دلوں میں ولولہ بھرا بلکہ دشمن کی آنکھوں میں لرز پیدا کیا انہوں نے اپنی تلوار کی کاٹ اور جنگی حکمت عملی سے قبیلے کے حدود کو محفوظ رکھا اور قبیلے کی تاریخی شان میں اضافہ کیا۔
3. سردار عطو خان ؛
تیسرے صاحبزادے سردار عطو خان اپنی نرمی، تدبر اور حسنِ اخلاق کے باعث قبیلے میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے وہ تنازعات کو صلح و دانشمندی کے ساتھ سلجھاتے اور اپنے بھائیوں کی بہادری کے ساتھ ہم آہنگ رہتے عطو خان کے مشورے اور فیصلے قبیلے کے دلوں میں سکون اور اعتماد پیدا کرتے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر فرد کو اطمینان نصیب ہوتا یکجہتی و فخر ان کا یہ وصف کہ وہ اپنے بھائیوں کے اوصاف کی روشنی میں قبیلے کو متحد رکھتے تاریخ میں قبیلے کے استحکام کی مثال ہے عطو خان کی حکمت اور نرم خوئی نے قبیلے کے اندرونی اتحاد کو مضبوط کیا جس سے سردار لکھو خان اور فوجو خان کی بہادری اور قیادت کو بھی مزید اثرورسوخ حاصل ہوا تاہم میدان جنگ میں وہ ایک مرد مجاہد کی طرح حملہ آور ہوتے اور دشمن خوف سے لرز اٹھتے۔
المختصر یہ تینوں صاحبزادگان اپنے اپنے اوصاف میں ممتاز تھے مگر ایک دوسرے کی روشنی میں مکمل ہوتے تھے سردار لکھو خان کی قیادت، فوجو خان کی بہادری اور عطو خان کی حکمت نے قبیلہ کلرال کو ایک مضبوط، متحد اور شاندار تاریخ دی ہر ایک نے اپنی خصوصیات کے ذریعے نہ صرف قبیلے کی حفاظت کی بلکہ ایک دوسرے کے کردار کو بھی فخر کا سبب بنایا۔
بنی سردار لکھو خان بن سردار ویسراخان ؛
سردار لکھو خان اپنی نسل کے وہ عظیم سردار تھے جنہوں نے قبیلہ کلرال کو ایک منظم اور متحد اکائی کی صورت عطا کی وہ انصاف پسند، فراخ دل اور تدبر میں یکتا تھے ان کی حکمت عملی نے قبیلے کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا اور داخلی سطح پر ایک مضبوط نظام قائم کیا۔
سیاسی طور پر وہ خطے کے بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے ان کی رائے قبائلی جرگوں اور مشاورت میں نہایت اہمیت رکھتی تھی، اور دوسرے قبائل بھی ان کے فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ان کے عہد میں قبیلے کے اندرونی اختلافات ختم ہوئے اور اتحاد و یگانگت کو فروغ ملا۔
صاحبزادگان ؛
سردار لکھو خان کا ایک ہی صاحبزادہ تھا۔
سردار دیوراج خان۔
بنی سردار دیوراج خان بن سردار لکھو خان ؛
سردار دیوراج خان اپنی جرات، حکمت اور قائدانہ صلاحیتوں کے سبب قبیلے کے درخشندہ ستارے سمجھے جاتے ہیں وہ نہ صرف جنگی میدان میں شیر کی طرح بہادر تھے بلکہ سیاسی بصیرت میں بھی بےنظیر تھے ان کی شخصیت قبیلے کے لیے سایۂ رحمت ثابت ہوئی سیاسی طور پر وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے کلرال قبیلے کو خطے میں طاقتور اور بااثر پوزیشن دلوائی ان کے دور میں قبیلے کی عسکری طاقت میں اضافہ ہوا اور پڑوسی قبائل نے کلرال کو ایک منظم اور متحد قوت تسلیم کیا ان کی حکمت عملی اور سفارتی مہارت نے قبیلے کی وقعت کو اور بھی بلند کیا۔
صاحبزادگان ؛
سردار دیوراج خان کا ایک ہی صاحبزادہ تھا۔
سردار تاجو خان۔
بنی سردار تاجوخان بن سردار دیوراج خان ؛
(( تاجوال گاؤں کی آبادکاری سال 1595ء ))
سردار تاجوخان 1555ء میں پیدا ہوئے وہ شہزادہ کلرشاہ کی چودویں پشت میں سے تھے سردار تاجو خان اپنے والد کی تمام اعلیٰ صفات کے وارث ہونے کے باوجود اپنی انفرادیت میں بے مثال تھے ان کی شخصیت میں تیز اندازی شکار میں مہارت تدبیر میں نرمی اور دل میں فیاضی کا ایک نادر امتزاج تھا سردار تاجوخان نے بکوٹ کی سرزمین کو چھوڑ کر گلیات کے پہاڑی سلسلوں میں ایک نیا گاؤں 1595ء میں آباد کیا جو ان کے نام سے موسوم ہو کر تاجوال کہلانے لگا (یعنی تاجو کی آل) تاجوال نہ صرف ایک گاؤں بلکہ سردار تاجوخان کی آل کی پہچان، شجاعت، علم و حکمت اور نسل کی عظمت کی علامت بن گیا تاجوخان کی مہارت تیر اندازی میں ایسی تھی کہ ہر نشانہ اپنی مثال آپ تھا اور ان کے اخلاق میں وہ مہذب عظمت و جلال اور شاہانہ نزاکت تھی جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی اور قبیلے کے ہر فرد کے دل میں فخر، عزت اور سربلندی کی لہر دوڑاتی سردار تاجوخان قبیلہ کلرال کے جلیل القدر سردار، اپنی شجاعت، حکمت و تدبیر اور عدل و انصاف کے لیے زمانہ کے افسانہ تھے۔
صاحبزادگان ؛
سردار تاجوخان کے پانچ صاحبزادے تھے۔
1- سردار مناخان بن سردار تاجو خان ؛
(( گاؤں بوئی کا قیام سال 1636ء)) ؛
سردار مناخان نے اپنی بصیرت، تدبیر اور جرات سے ایک نیا تاریخی مرکز قائم کیا جس کا نام بوئی، ایبٹ آباد رکھا گیا یہ گاوں نہ صرف ان کی نسل کا مسکن بلکہ ایک روشن مینار ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے فخر، ثقافت اور شجاعت کی علامت کے طور پر ہمیشہ قائم رہے گا یوں سردار تاجوخان کی اولاد نے نہ صرف اپنے قبیلے کے عظمت و وقار کو برقرار رکھا بلکہ اپنے عزم و تدبیر سے ایک ایسا تاریخی ورثہ رقم کیا جو صدیوں تک کلرال کے نام و نشان کو تابناک رکھتا رہے گا۔
2۔ سردار مرزا خان ؛
سردار مرزا خان نے اپنے والد کی اعلیٰ روایات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ان میں نکھار پیدا کیا۔ وہ اپنی دانشمندی اور تدبر کے باعث قبیلے کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے عمل اور بصیرت نے قبیلے کو اتحاد اور یکجہتی کی راہ پر گامزن رکھا۔
3۔ سردار بہتر خان ؛
سردار بہتر خان اپنی شجاعت اور جرات مندی کی بدولت نمایاں ہوئے۔ وہ ہر مشکل وقت میں ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے۔ ان کے کردار نے قبیلے کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کیا اور آئندہ نسلوں کے لیے جرات اور بہادری کی مثال قائم کی۔
4۔ سردار بہگو خان ؛
سردار بہگو خان عدل و انصاف کے لیے مشہور تھے۔ ان کی دیانت اور غیر جانب داری نے قبیلے کے افراد کے دلوں میں اعتماد پیدا کیا۔ ان کے فیصلے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتے جس سے قبیلے میں امن اور بھائی چارے کو فروغ ملا۔
5۔ سردار تٙمر خان ؛
سردار تمر خان نے اپنے والد کی محنت اور اصول پسندی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ان کی قیادت نے قبیلے کی بنیادوں کو مزید مستحکم کیا.
بنی سردار تمر خان بن سردار تاجو خان ؛
قبیلہ کلرال کی عظیم داستان میں سردار تمر خان بن سردار تاجو خان ایک درخشاں ستارے کی مانند ابھرتے ہیں وہ نہ صرف اپنے والدین کی شجاعت اور حکمت کے وارث تھے بلکہ اپنی ذات میں بہادری، تدبر، معاملہ فہمی اور قیادت کی شان کو یکجا کیے ہوئے تھے سردار تمرخان کے عہد میں برصغیر کی فضاؤں میں سیاسی طوفان برپا تھے مغل سلطنت زوال کے دھانے پر تھی اور مقامی قبائل اپنی آزادی و وقار کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ایسے پرآشوب وقت میں سردار تمر خان نے اپنے قبیلے کو بکھرنے نہیں دیا بلکہ اسے متحد، منظم اور باوقار انداز میں ایک نئی سمت عطا کی وہ اپنی شخصیت میں عدلِ فاروقی، شجاعتِ حیدری، بصیرتِ لقمانی اور غیرتِ اسلامی کے پیکر تھے۔ ان کا وجود اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ کلرال قیادت صرف طاقت پر نہیں بلکہ حکمت و تدبر پر بھی قائم تھی۔
صاحبزادگان ؛
سردار تمر خان کے دو صاحبزادے تھے۔
1- سردار جہانگیر خان ؛
سردار جہانگیر خان نے اپنے آبائی مقام تاجوال کو اپنا مرکز بنایا ان کی قیادت میں تاجوال محض ایک بستی نہ رہا بلکہ قبیلے کے اتحاد، ورثے اور وقار کا استعارہ بن گیا ان کی نسل نے یہاں سے قبیلے کو ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر جڑوں کے ساتھ جوڑ دیا۔
2- سردار ارجن خان ؛
سردار ارجن خان اپنے وقت کے جری، باوقار اور بصیرت مند سردار تھے انہوں نے 32 سال کی عمر میں 1647ء کو تاجوال سے ترکِ سکونت کر کے بیرن گلی کو آباد کیا یہ ایک قدیم اور تاریخی علاقہ تھا جو اپنی جغرافیائی حیثیت کے اعتبار سے کشمیر کے علمی و تجارتی راستوں پر ایک اہم سنگم تھا سردار ارجن خان کی فراست نے ایک ویران پہاڑی مقام کو شجاعت و علم کی وادی میں بدل دیا وہ بحقِ تعبیر بانی و معمارِ بیرن گلی ہیں، اور آج بھی ان کا نام عزت، شجاعت اور قیادت کا روشن مینار ہے۔
بنی سردار ارجن خان بن سردار تمرخان ؛
(( بیرن گلی گاؤں کا قیام سال 1647ء ))
سردار ارجن خان بن سردار تمر خان 1615ء میں تاجوال میں پیدا ہوئے یہ قبیلہ کلرال کے بانی شہزادہ کلرشاہ کی پندرویں پشت جبکہ سردارِ اوّل گلیات سردار راجنگ خان کی چھٹی پشت میں سے تھے سردار ارجن خان ایک ممتاز مردِ مجاہد، حکیم و دانشور اور قائدانہ صلاحتیوں کے مالک تھے ان کی ذات میں شجاعت و غیرت، علم و حکمت اور حریت پسندی کے اعلیٰ اقدار نمایاں تھے سردار ارجن خان نے تاجوال کی سرزمین سے آ کر 1647ء میں بیرن گلی میں قدم رکھا اور اسے آباد کیا جو ایک قدیم و تاریخی گاؤں تھا۔ بیرن گلی کی جغرافیائی اہمیت اس لحاظ سے بھی عظیم تھی کہ کشمیر علم و تعلیم اور تجارت کا مرکز تھا اور اس کا راستہ بیرن گلی سے گزرتا تھا یوں یہ گاؤں علمی، تجارتی اور سماجی دونوں حوالوں سے خطے میں ایک ممتاز مقام اختیار کر گیا سردار ارجن خان نشانہ بازی میں مہارت کے ماہر، حریت پسند اور اپنے والد و اجداد کی مانند قوم و وطن کے لیے آزاد منشانہ اصولوں کے علمبردار تھے ان کی بصیرت اور قیادت نے بیرن گلی کو ایک مستحکم، آباد و قابلِ فخر گاؤں میں تبدیل کیا جس کی اہمیت آنے والی نسلوں کے لیے روشن مثال بنی۔
صاحبزادگان ؛
سردار ارجن خان کے پانچ صاحبزادے تھے۔
1. سردار جوہر خان ؛
سردار جوہر خان بہادر، معاملہ فہم اور دور اندیش شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنانے میں پیش پیش رہے۔
2. سردار سوراج خان ؛
سردار سوراج خان صلح جو اور تعلقات قائم رکھنے والے تھے۔ انہوں نے دیگر مواضعات میں موجود کلرال قبیلے سے روابط مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
3. سردار شیر خان ؛
سردار شیر خان جرات مند اور دلیر تھے۔ وہ اپنے قبیلے کے لیے حفاظتی ڈھال ثابت ہوئے اور دفاعی معاملات میں نمایاں سمجھے جاتے تھے۔
4. سردار منور خان ؛
سردار منور خان دانشمند اور تدبیر شناس تھے۔ انہوں نے سیاسی اور سماجی معاملات میں نمایاں بصیرت کا مظاہرہ کیا اور اپنے علاقے میں عزت و وقار حاصل کیا۔
5. سردار قمرو خان بن سردارارجن خان ؛
((علاقہ ترنول اسلام آباد کی آبادکاری سال 1673ء))
سردار قمرو خان نے بیرن گلی سے ہجرت کر کے ترنول، اسلام آباد میں نیا گاؤں آباد کیا اور وہاں کے زمین و ماحول کو مستحکم و آباد کیا، جس سے نئی بستیاں اور معاشرتی ترقی کا آغاز ہوا۔
بعد ازاں سردار سواری خان بن سردار ملک خان جو کہ سردار بیرسی خان بن سردار راجنگ خان کی چھٹی پشت جبکہ شہزادہ کلرشاہ کی پندرویں پشت میں سے تھے بھی بیرن گلی میں تشریف لائے اور سکونت اختیار کی ان کے قیام سے بیرن گلی مزید آباد و معتبر ہوئی اور اس کی تاریخی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
بنی سردار جوہر خان بن سردار ارجن خان ؛
سردار جوہر خان بن سردار ارجن خان قبیلہ کلرال کی ایک دلیر اور باوقار ہستی تھے وہ اپنے والد کے بعد قیادت کے منصب پر فائز ہوئے اور اپنے دور میں قبیلہ کو ہر لحاظ سے مضبوط اور مستحکم بنایا ان کی شخصیت میں بہادری، عدل، اور سیاسی حکمت یکجا تھی سردار جوہر خان نے دشمن کی ہر یلغار کو جرأت اور حکمتِ عملی سے ناکام بنایا اور اپنے قبیلہ کو محفوظ رکھا قبائلی نظم و نسق کو مزید منظم بنیادوں پر استوار کیا اور عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے۔
قبیلہ کے افراد کو اتحاد اور بھائی چارے میں جوڑ کر ایک مضبوط وحدت قائم رکھی دیگر موضع جات میں آباد کلرال خاندانوں اور شاخوں سے روابط مضبوط کیے جس سے باہمی رشتہ داری اور تعاون کو فروغ ملا اور پورا قبیلہ ایک دوسرے کا دست و بازو بن گیا تجارت اور مقامی تعلقات کو آگے بڑھایا، جس سے قبیلہ خوشحال ہوا اور بیرونی سطح پر بھی اثر و رسوخ بڑھا۔
صاحبزادگان ؛
سردار جوہر خان کے دو صاحبزادے تھے۔
1. سردار شیخ خان ؛
سردار شیخ خان اپنے دینی رجحان اور نیک سیرتی کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اہلِ قبیلہ ان کی دیانت اور شرافت کی وجہ سے ان پر اعتماد کرتے تھے۔
2. سردار سوراج خان ؛
سردار سوراج خان اپنے والد کی بہادری اور سیاسی بصیرت کے وارث تھے اور قبیلہ کے معاملات میں جرأت مندانہ کردار ادا کرتے تھے۔
بنی سردار شیخ خان بن سردار جوہر خان ؛
سردار شیخ خان اپنے عہد کے باوقار اور بااثر بزرگ تھے وہ اپنے والد سردار جوہر خان کی بہادری اور بصیرت کے وارث ثابت ہوئے سیاسی فہم و فراست معاملہ فہمی اور قبیلے کی یکجہتی کے حوالے سے ان کی شخصیت نمایاں تھی۔ سردار شیخ خان نے نہ صرف اپنے قبیلے کے اتحاد کو مضبوط کیا بلکہ دیگر اطراف کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے اور دشمن کے مقابلے میں دفاعی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ان کی زندگی عزت، وقار اور شجاعت کی آئینہ دار تھی۔
صاحبزادگانِ ؛
سردار شیخ خان کے پانچ صاحبزادے تھے۔
1. سردار ممریز خان ؛
بہادری اور دلیری میں مشہور، اپنے علاقے کے دفاع میں نمایاں سمجھے جاتے تھے۔
2. سردار برلاس خان ؛
علم و دانائی کے حامل، قبیلے کی سیاسی حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
3. سردار رنگو خان ؛
خوش گفتار اور تعلقات قائم رکھنے والے، انہوں نے ہمسایہ قبائل کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا۔
4. سردار خیردی خان ؛
اصلاح پسند اور قبیلے کے اندرونی معاملات میں انصاف پسند مزاج کے مالک تھے۔
5. سردار اکبر خان ؛
بہترین منتظم اور مدبر شخصیت، قبیلے کے مالی اور معاشرتی استحکام میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔
بنی سردار برلاس خان بن سردار شیخ خان ؛
سردار برلاس خان اپنے وقت کے ایک بہادر، معاملہ فہم اور قبائلی اتحاد کے داعی بزرگ تھے ان کی قیادت میں خاندان نے نہ صرف اپنے وجود کو منظم کیا بلکہ اپنی زمینوں اور آبادیوں کو بھی محفوظ بنایا وہ اپنے عدل، انصاف اور بہادری کے سبب قبیلے میں نمایاں مقام رکھتے تھے سردار برلاس خان نے مختلف قبائلی اختلافات کو دانشمندی سے ختم کر کے اتحاد قائم کیا اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی یہی وجہ ہے کہ ان کا نام قبیلے کی تاریخ میں عزت اور فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
صاحبزادے ؛
سردار برلاس خان کے سات صاحبزادے تھے۔
1. سردار رحمت علی ؛
سردار رحمت علی ایک سنجیدہ اور بردبار شخصیت کے مالک تھے اپنے خاندان کی قیادت اور زمینوں کی نگہبانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
2. سردار نورالدین ؛
سردار نورالدین خان علم و بصیرت کے ساتھ ساتھ قبیلے کے اجتماعی معاملات میں متحرک رہے۔
3. سردار بالو خان ؛
سردار بالو خان شجاعت اور جفاکشی میں مشہور تھے اور ہمیشہ قبیلے کے دفاع میں آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔
4. سردار بہادر خان ؛
سردار بہادر خان اپنے نام کی طرح بہادری اور نڈر مزاجی کے لیے جانے جاتے تھے۔
5. سردار شمشیر خان ؛
سردار شمشیر خان غیرت مند اور تلوار کے ماہر اپنے دور میں ایک جنگجو اور قبیلے کے محافظ سمجھے جاتے تھے۔
6. سردار حسن خان ؛
سردار حسن خان بردباری، معاملہ فہمی اور قیادت کی خصوصیات کے حامل تھے۔
7. سردار نوین خان ؛
سردار نوین خان ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے باقی بھائیوں سے الگ ہو کر بیرن گلی میں سکونت اختیار کی۔
((گاؤں نمبلی میرا کی آباد کاری سال 1765ء)) ؛
سردار برلاس خان اپنے چھ بیٹوں کے ہمراہ ہمراہ ایک غیر آباد خطے میں منتقل ہوئے جہاں انہوں نے ایک نئی بستی کی بنیاد رکھی جو بعد میں نمبلی میرا کے نام سے مشہور ہوئی سنہ 1765ء میں سردار برلاس خان کے خاندان کے ساتھ ساتھ سردار حسن خان کا خاندان بھی وہاں آ بسایا اُس وقت یہ مقام ویران اور سنسان تھا، جسے "میرا" کہا جاتا تھا برف باری کثرت سے ہونے کے باعث زمین میں نمی رہتی تھی اس وجہ سے اس جگہ کا نام نمبلی میرا پڑ گیا سردار حسن خان کا شجرہ سردار بیرسی خان بن سردار راجنگ خان سے جا ملتا ہے جبکہ سردار برلاس خان کا نسب سردار ویسرا خان بن سردار راجنگ خان سے مربوط ہے۔
کچھ عرصے بعد سردار برلاس خان کے برادر زادہ سردار بہادر خان بن میرکلی خان بھی یہاں آباد ہوئے جب زمین تقسیم کی گئی تو ساتواں حصہ بعد میں آنے والے سردار بہادر خان کو دیا گیا جبکہ باقی زمین سردار برلاس خان اور سردار حسن خان میں برابر تقسیم کی گئی یوں نمبلی میرا کی بستی ایک نئی تاریخ کا آغاز بنی اور قبیلہ کلرال کے لیے ایک مضبوط مرکز کے طور پر ابھری۔
بنی سردار نوین خان بن سردار برلاس خان ؛
سردار نوین خان بیرن گلی کے بلند و بالا پہاڑوں میں اپنی بصیرت اور شجاعت کے چراغ کی طرح روشن تھے وہ محض سردار نہیں بلکہ ایک رہنما، محافظ اور علم و حکمت کے علمبردار تھے ہر قدم جو وہ اٹھاتے قبیلے کی فلاح اور آنے والی نسل کی مضبوط بنیاد کے لیے ہوتا ان کی آنکھوں میں دور اندیشی کی چمک اور دل میں انصاف و ہمدردی کی گرماہٹ تھی سردار نوین خان کی محفلیں علم و حکمت، نصیحت و دین کی روشنی سے منور رہتیں اور لوگ ان کے گرد جمع ہو کر رہنمائی حاصل کرتے ان کی شخصیت میں سختی اور شفقت کا ایسا امتزاج تھا جو دشمن کو خوفزدہ اور اپنے لوگوں کو سکون و اعتماد فراہم کرتا۔ بیرن گلی میں ہر پہاڑی، ہر وادی اور ہر گھر ان کی بصیرت اور قیادت کی گواہی دیتا تھا اور آج بھی ان کی یاد آنے والی نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔
صاحبزادگان ؛
سردار نوین خان کے چھ صاحبزادے تھے۔
1. سردار دوست خان ؛
سردار دوست خان نمبلی میرا میں مقیم رہے مزاج جراتمند، فیاض اور دوسروں کی مدد کرنے والا رہا اور بستی کی آبادکاری اور ترقی میں فعال کردار ادا کیا۔
2. سردار حاتم ؛
سردار حاتم نمبلی میرا میں مقیم رہے مزاج منظم، دور اندیش اور فیصلہ ساز تھا بستی کے نظم و نسق اور نوجوانوں کی تربیت میں ان کا نمایاں کردار رہا۔
3. سردار جمال ؛
سردار جمال نمبلی میرا میں رہائش پذیر ہوئے خوش اخلاق دوستانہ اور سماجی ہم آہنگی کے لیے جانے جاتے تھے بستی میں تعاون اور بھائی چارے کو پروان چڑھایا۔
4. سردار رحم قلی ؛
سردار رحم قلی بیرن گلی میں مقیم رہے مزاج نرم دل، انصاف پسند اور دینی اصولوں کے مطابق بیرن گلی میں امن، بھائی چارہ اور اخلاقی رویوں کو فروغ دیا۔
5. سردار عنایت ؛
سردار عنایت بیرن گلی میں مقیم رہے مزاج خدمت خلق اور بھائی چارے کا علمبردار۔ لوگوں کی رہنمائی اور فلاح و بہبود میں ہمیشہ سرگرم
6. سردار احمد خان ؛
سردار احمد خان نے بیرن گلی میں مقیم رہے مزاج دور اندیش، مدبر، دانا، سخت جان اور اپنے زمانے کے معلم اور دین کے بزرگ تھے جن کی محفلیں علم و حکمت سے منور تھیں اور قبیلے میں رہنمائی کے لیے مرکزی شخصیت تھے۔
یوں سردار نوین خان اور ان کے صاحبزادگان نے نمبلی میرا اور بیرن گلی دونوں بستیوں میں قبیلے کی مضبوط اور منظم بنیادیں قائم کیں ان کی قیادت، علم، شجاعت اور بصیرت آج بھی آنے والی نسل کے لیے روشن مثال ہیں اور ان کی یاد قبیلے کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
بنی سردار احمد خان بن سردارنوین خان ؛
سردار احمد خان قبیلہ کلرال کے دوراندیش، شجاع و دلاور اور حکمت و تدبیر کے مالک سردار تھے۔ وہ نہ صرف قبیلے کے داخلی و خارجی امور میں رہنمائی فراہم کرتے بلکہ دشمنوں کے یلغار اور قبائلی کشمکش کے وقت بھی قیادت کے اعلیٰ معیار کے مظاہرہ کرتے۔ ان کی زیر سایہ کلرال قبیلہ نے دفاعی محاذ پر نہایت شجاعت، مہارت اور تدبیر کا مظاہرہ کیا جس سے مخالفین کے دل لرز گئے اور علاقے میں امن و سلامتی قائم ہوئی۔
تاریخی حوالوں کے مطابق سردار احمد خان نے نہ صرف قبیلے کی فلاح و بہبود کے لیے دقیق منصوبہ بندی کی بلکہ عوام کی تعلیم، روزگار اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی سنجیدہ کردار ادا کیا ان کی بصیرت، خرد و فہم و فراست نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط سیاسی، عسکری اور سماجی بنیاد قائم کی جس کی بدولت قبیلہ کلرال ایک متحد، مستحکم اور معزز برادری کے طور پر جانا گیا سردار احمد خان کی عظمت و بزرگی اس بات سے بھی واضح ہے کہ ان کی رہنمائی میں قبیلہ نے نہ صرف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنایا بلکہ اپنی وقار، عظمت اور اثر و رسوخ میں اضافہ کیا۔ وہ ایک ایسے عظیم سردار تھے جنہوں نے اپنی حکمت، شجاعت اور عدل و انصاف سے قبیلے کو مضبوط کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ فراہم کی۔
صاحبزادگان ؛
سردار احمد خان کے چار صاحبزادے تھے۔
1. سردار محمد خان ؛
سردار محمد خان نے اپنے والد کی حکمت و فراست کے زیر اثر قبیلے کے داخلی جھگڑوں کو حل کیا اور مواضع میں رہائشی قبائل کے درمیان صلح و وفاق قائم رکھا ان کی دوراندیشی اور خرد مندی نے قبیلے کو مشکلات و چالشوں سے محفوظ رکھا اور انہیں ایک معتبر رہنما کے طور پر پذیرائی حاصل ہوئی۔
2. سردار خیرا خان ؛
سردار خیرا خان نے قبیلے کی سرحدوں کی حفاظت اور دفاعی محاذ پر اپنی مہارت و دلیری کا لوہا منوایا دشمن کے حملوں کے وقت وہ میدانِ جنگ میں حاضر رہتے اور اپنی فطری شجاعت و تدبیر سے حریفوں کے دلوں میں لرزہ طاری کر دیتے ان کی بہادری اور عسکری مہارت نے قبیلے کی حفاظت اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔
3. سردار دائِم خان ؛
سردار دائِم خان نے قبیلے کی فلاح و بہبود سماجی ہم آہنگی اور خیرسگالی کے امور میں نمایاں خدمات انجام دیں غرباء و محتاجوں کی مدد کے منصوبے ترتیب دیے اور قبیلے میں امن و بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے ان کی بصیرت، تدبیر اور خدمتِ خلق نے قبیلے میں ان کی قدر و منزلت کو بلند کیا۔
4. سردار اللہ داد خان ؛
((جھافر گاؤں کی آبادکاری سنہ 1815ء)) ؛
سردار اللہ داد خان 1785ء میں بیرن گلی (ضلع ایبٹ آباد) میں پیدا ہوئے انہیں دینی ماحول میں تعلیم و تربیت دی گئی جہاں قرآن و حدیث کے مطالعے اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد نے ان کی فکری اور عملی صلاحیتوں کو مستحکم کیا ابتدائی عمر ہی سے ان میں شجاعت، دوراندیشی اور حریت پسندی کی خصوصیات واضح تھیں۔انیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر سیاسی و عسکری کشمکش کا شکار تھا مغل سلطنت اپنی مرکزیت کھو چکی تھی درّانی اقتدار کمزور پڑ رہا تھا اور پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طاقت تیزی سے بڑھ رہی تھی 1801ء (1216ھ) میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور میں اپنی سلطنت قائم کی اور شمالی علاقوں بالخصوص ہزارہ کی طرف توسیع پسندی شروع کر دی ہزارہ ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا تھا کیونکہ یہ خطہ پنجاب کو کوہستان، گلگت بلتستان اور شمالی وادیوں سے جوڑنے والی کلیدی گزرگاہ پر واقع تھا 1813ء (1228ھ) کے بعد سکھ افواج نے ہزارہ میں قدم جمانا شروع کیا اور رفتہ رفتہ اس خطے پر قبضہ کرنے کی کوششیں کیں اس دوران، 1230ھ / 1815ء میں جھافر کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن مرحلہ آیا جب قبیلہ کلرال نے اپنی زمین پر کسی غیر طاقت کو قابض نہ ہونے دیا تاریخی روایات کے مطابق سردار اللہ داد خان قبیلہ کلرال کے رہنما تھے انہوں نے جھافر اور اس کے اطراف میں سکھوں کے خلاف کامیاب مہمات انجام دیں جس کے نتیجے میں سکھوں کو علاقے سے نکال دیا گیا اس فتح کے بعد سردار اللہ داد خان نے اپنے خاندان کے ہمراہ جھافر میں سکونت اختیار کی یہ اقدام نہ صرف رہائش کے لیے تھا بلکہ ایک واضح سیاسی اور دفاعی فیصلہ بھی تھا جس نے قبیلہ کلرال کی آزادی اور خودمختاری کو مستحکم کیا تاریخی شواہد اور مقامی روایات کے مطابق قبیلہ کلرال نے اپنے زیرِ قبضہ ہر علاقے میں مکمل آزادی برقرار رکھی قبیلہ کلرال ایک حریت پسند جماعت کے طور پر جانا جاتا تھا جو کسی بھی غیر مسلم طاقت کو یا دیگر کسی قبیلے کو اپنے علاقے میں تسلط جمانے کی اجازت نہیں دیتا تھا البتہ ان علاقوں میں چند ہندو خاندان بھی آباد تھے جو زیادہ تر پر امن رہے اور کبھی بھی اس قبیلے کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائے البتہ سازشوں میں ملوث رہے۔ کلرال کی مزاحمت صرف جھافر تک محدود نہ تھی بلکہ ہزارہ کے دیگر علاقوں میں بھی کلرال نے کسی غیر قوی طاقت کو قابض نہیں ہونے دیا ہر موقع پر کلرال مجاہدین نے اپنی زمین کی حفاظت کے لیے نہایت تدبیر اور جرات کا مظاہرہ کیا اس آزادانہ رویے نے قبیلہ کلرال کو خطے کے دیگر قبائل سے ممتاز کیا کیونکہ جہاں اکثر قبائل دباؤ کے نتیجے میں اپنے علاقوں پر غیر مقامی حکمرانی کو قبول کر لیتے وہاں کلرال نے ہر صورت اپنی خودمختاری اور حریت برقرار رکھی یہی اصول اور مزاحمتی رویہ قبیلہ کلرال کی تاریخی پہچان اور سیاسی طاقت کی بنیاد بنا جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر موجود ہے سنہ 1822ء (1237ھ) میں سکھ افواج نے ہزارہ کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا لیکن قبیلہ کلرال کے زیرِ کنٹرول علاقے پر کوئی قابض نہ ہو سکا کلرال قبیلہ نے اپنے ہر علاقے میں مکمل آزادی برقرار رکھی اور کسی بھی غیر مقامی طاقت کو اپنے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی اس دور میں قبیلہ کلرال کے مجاہدین اور سکھ افواج کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں تاریخی روایات کے مطابق ہر بار سکھ افواج کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اس مزاحمت نے نہ صرف قبیلہ کلرال کی خودمختاری کو قائم رکھا بلکہ سکھ تسلط کی توسیع کو بھی محدود کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا کلرال مجاہدین کی یہ مزاحمت ایک روشن مثال تھی کہ قومی حریت اور زمینی خودمختاری کے دفاع میں ایک منظم اور متحد قبیلہ کس طرح دشمن کی پیش قدمی کو روک سکتا ہے۔
جھافر کی بنیاد محض ایک بستی کے قیام کی علامت نہیں تھی بلکہ یہ قبیلہ کلرال کی جدوجہد، مزاحمت اور قیادت کا مظہر تھی سردار اللہ داد خان کی قیادت اور مجاہدین کی یکجہتی نے اس خطے میں آزادی کے اصول کو مستحکم کیا جھافر نہ صرف قبیلے کی شناخت کا مرکز بنا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کی جس نے انہیں اپنی زمین اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے حوصلہ فراہم کیا۔
حوالہ جات ؛
1. Khushwant Singh, History of the Sikhs, Vol. II, p. 113
2. Lepel Griffin, The Rajas of the Punjab
3. مقامی زبانی تاریخ و روایات (کلرال قبائل)
لفظ جھافر کا ممکنہ معنی ؛
اردو اور قریبی مقامی بولیوں (پٹھواری، ہندکو، پہاڑی) میں اس لفظ کی جڑیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
1. جھاڑ/جھاڑیاں (جھا → جھاڑ → جھافر)
بعض علاقوں میں “جھا” یا “جھافر” اونچی گھنی جھاڑیوں یا جنگل دار مقام کے لیے بولا جاتا تھا۔ چونکہ جھافر پہاڑی اور جنگل دار علاقہ تھا، اس لیے یہ نام قدرتی ماحول سے جڑا ہو سکتا ہے۔
2. جھالر/جھافر (اونچا یا نمایاں حصہ)
مقامی لہجے میں “جھالر” یا “جھافر” کسی ڈھلوان، ابھری ہوئی جگہ یا پہاڑ کے نمایاں کونے کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ جھافر ایک پہاڑی ڈھلوان پر آباد ہے، تو یہ نام غالباً جغرافیائی محلِ وقوع سے آیا۔
3. قدیم ہندکو/پہاڑی مفہوم
ہندکو اور پہاڑی میں “جھا” یا “جھاڑ” کا مطلب بلندی، جنگل یا گھنا پن بھی ہے۔ “فر” لاحقہ اضافی نسبت یا کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں “جھافر” کا مطلب ہو سکتا ہے،
👉 “اونچا گھنا مقام” یا “پہاڑی پر آباد جگہ”۔
خلاصہ ؛
لفظ جھافر غالباً کسی جغرافیائی کیفیت (اونچائی، ڈھلوان، گھنی جھاڑیاں) کی وجہ سے رکھا گیا۔ اس کا مطلب “بلند و بالا گھنا پہاڑی مقام” سمجھا جا سکتا ہے۔
جھافر گاؤں کا حدود اربعہ؛
شمال مشرق >> ٹھنڈیانی کا جنگل اور تُنگ
شمال مغرب >> چندرول
جنوب مشرق >> بیرن گلی
جنوب مغرب >> ساوٙل
مشرق >> بیرن گلی
مغرب شمال >> ندی ہرنو
مغرب جنوب >> باڑیاں
شجرہ نسب سردار کلرشاہ تا سردار اللہ داد خان ؛
→ سردار کلرشاہ
│
1 → سردار مل خان
│
2 → سردار لدہیرخان
│
3 → سردار جہگیرخان
│
4 → سردار سریر خان
│
5 → سردار پیہلے خان اوّل
│
6 → سردار مکون خان
│
7 → سردار بنی خان
│
8 → سردار پیہلےخان ثانی
│
9 → سردار راجنگ خان
│
10 → سردار ویسراخان
│
11 → سردار لکھوخان
│
12 → سردار دیوراج خان
│
13 → سردار تاجوخان
│
14 → سردار تمرخان
│
15 → سردار ارجن خان
│
16 → سردار جوہر خان
│
17 → سردار شیخ خان
│
18 → سردار برلاس خان
│
19 → سردار نوین خان
│
20 → سردار احمد خان
│
21 → سردار اللہ داد خان
حوالہ جات ؛
یہ شجرہ نسب قومی محفوظ شجرہ ہے جو بندوبست 1872ء کے محافظ خانہ میں محفوظ شجروں سے حاصل کیا گیا اور موجودہ طور پر یہ شجرہ میوزیم لائبریری، پشاور میں محفوظ ہے۔ شجرہ کی ترتیب میں تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے درست نسلوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
(کلکلتہ کی شجرہ میوزیم لائبریری میں بھی اس شجرہ کی نقل محفوظ ہے۔)
نوٹ ؛ یہ شجرہ سردار اللہ داد خان کی شاخ کی نمائندگی کرتا ہے جو بزرگان قبیلہ کلرال اور ان کے عظیم نسب کی روشن اور متواتر تفصیل پر مشتمل ہے اور بالآخر قبیلہ کلرال کے بانی شہزادہ کلرشاہ سے جا کر ملتی ہے جس سے نسل کی عظمت، وقارِ قبیلہ اور دیانتِ نسب کی روشنی بخوبی عیاں ہوتی ہے۔
بنی سردار اللہ داد خان بن سردار احمد خان ؛
سردار اللہ داد خان کی شخصیت ایک عہد کی پہچان تھی مگر ان کے بعد ان کے بیٹے وہ چراغ تھے جنہوں نے اپنے والد کے حوصلے، بصیرت اور قیادت کو دوام دیا یہ چاروں بھائی نہ صرف اپنے باپ کی میراث کے حقیقی امین تھے بلکہ قبیلے کے ستون اور اس کی بقا کے ضامن بھی ان کے نام کے ساتھ قبیلے کی عزت، غیرت اور آزادی جڑی ہوئی تھی۔
صاحبزادگان ؛
سردار اللہ داد خان کے چار صاحبزادے تھے۔
1. سردار آدم خان ؛
سب سے بڑے صاحبزادے، سردار آدم خان، قبیلے کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند تھے وہ بردبار، سمجھدار اور ہر دلعزیز رہنما تھے اپنے فیصلوں میں عدل و انصاف کے پابند اور اپنے رویے میں شفقت و ہمدردی کا پیکر تھے ان کی سب سے بڑی طاقت صبر و استقامت تھی جہاں ان کے بھائی میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف صف آرا رہتے، وہاں سردار آدم خان قبیلے کے اندرونی معاملات کو استحکام بخشتے اور ترقی و خوشحالی کی راہیں کھولتے۔
2. سردار شیر جنگ ؛
دوسرے صاحبزادے سردار شیر جنگ کا ذکر ہو تو جرات اور غیرت کا تصور ابھرتا ہے۔ وہ قربانی اور شجاعت کی مجسم تصویر تھے۔ قبیلے کا ہر نوجوان ان کی طرف دیکھ کر ولولہ پاتا اور دشمن ان کے نام سے لرزہ براندام ہو جاتا۔ وہ ہر معرکے میں صفِ اول میں رہتے اور اپنی جان کو قبیلے کی عزت کی ڈھال بنا دیتے ان کی تلوار قبیلے کی امید تھی اور ان کی غیرت قبیلے کی پہچان۔
3. سردار فتح خان ؛
تیسرے صاحبزادے، سردار فتح خان، بظاہر ایک درویش صفت انسان تھے عاجزی، انکساری اور سادہ مزاجی ان کی پہچان تھی مگر جب دشمن کے مقابل آتے تو وہی شخصیت فولاد کا روپ دھار لیتی وہ روحانیت اور شجاعت کا ایسا حسین امتزاج تھے جس نے انہیں منفرد بنایا ان کی قیادت نے قبیلے کو کئی بار مشکلات سے نکالا۔
4. سردار میرباز ؛
سب سے چھوٹے صاحبزادے، سردار میرباز، اپنی مدبرانہ صلاحیتوں اور دانائی کی وجہ سے مشہور ہوئے وہ قبیلے کے مشاورتی و فیصلہ کن مقام پر فائز تھے جب بھی کوئی تنازعہ یا مقدمہ کھڑا ہوتا، سب کی نظریں انہی پر جم جاتیں ان کے فیصلے ہمیشہ انصاف اور شریعت کے مطابق ہوتے اور یہی ان کی سب سے بڑی شناخت تھی نہ صرف اپنے قبیلے کے لوگ بلکہ قرب و جوار کے قبائل بھی ان کے در پر فیصلے کے لیے آتے اور مطمئن ہو کر لوٹتے ان کی شخصیت میں فہم و فراست اور اعلیٰ ظرفی جھلکتی تھی۔
بنی موسیٰ خان ((بیرن گلی سے جھافر میں آباد کاری)) ؛
سردار موسیٰ خان بن سردار سگار خان جو کہ سردار شیخ خان بن سردار جوہر خان کی پانچویں پشت سے تعلق رکھتے تھے بیرن گلی میں مقیم تھے جو ان کا آبائی علاقہ تھا اور زمین کی زرخیزی و قدرتی حسن سے مالا مال تھا سردار موسیٰ خان نے اپنے خاندان کی تربیت نسل کی حفاظت اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے خاندان کو علاقے میں معتبر مقام دلایا۔
شجرہ نسب: سردار موسیٰ خان ؛
سردار موسیٰ خان
بن سردار سگار خان
بن سردار حاکم خان
بن سردار بہگو خان
بن سردار ممریز خان
بن سردار شیخ خان
بن سردار جوہر خان
نوٹ ؛ سردار موسیٰ خان اور سردار اللہ داد خان کا شجرہ نسب سردار شیخ خان بن سردار جوہر خان سے مل کر بالآخر شہزادہ کلرشاہ تک جا پہنچتا ہے جس سے دونوں شخصیات کی نسلی حیثیت اور قبیلائی تعلق بخوبی واضح ہوتا ہے۔
صاحبزادگان ؛
ان کےدو صاحبزادے تھے۔
1. سردار ناصر خان، آبادکاری موہارکلاں ؛
سردار ناصر خان نے 1888 ء کو بیرن گلی سے ترک سکونت کے بعد موہارکلاں میں اپنے خاندان کی بنیاد رکھی اور یہاں نسل در نسل آباد ہو کر علاقے میں پہچان بنائی۔
2. سردار نصراللہ خان ؛ ((آبادکاری جھافر)) ؛
سردار نصراللہ خان نے 1888 ء کو بیرن گلی سے ترک سکونت اختیار کی اور جھافر منتقل ہوئے جہاں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کی اور اپنے خاندان کی بنیاد رکھی۔
گاؤں جھافر میں قبیلہ کلرال کی پانچ ہنڈیاں ؛
گاؤں جھافر میں نسل در نسل پانچ بنیادی ہنڈیاں آباد ہیں جو نہ صرف نسلی، سماجی اور دینی شناخت کی روشن علامت ہیں بلکہ ہر فیصلے میں اسلامی اصول، عدل و انصاف اور حریت پسندی کی روشنی بھی شامل ہوتی ہے۔
جھافر کی پانچ ہنڈیاں اور ان کے کردار ؛
1. ہنڈی آلآدم خان ؛
سردار آدم خان کی نسل کی یہ ہنڈی سیاسی بصیرت، عوامی خدمت، حریت پسندی اور بہادری کی نمایاں مثال ہے اہم فیصلوں میں اس کی علمی و عملی رائے ہمیشہ مقدم رکھی جاتی ہے۔
2. ہنڈی آلفتح خان ؛
سردار فتح خان کی نسل ہے جو دلیر، غیرت مند اور حریت پسند ہے یہ ہنڈی دفاع اور سماجی ترقی کے ہر میدان میں سرگرم رہتی ہے۔
3. ہنڈی شیرآل ؛
سردار شیرجنگ خان کی نسل ہے جو غیرت مند، پرامن اور صلح پسند ہے یہ ہنڈی سماجی ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی روشن مثال ہے اور تنازعات سے دور رہتی ہے۔
4۔ ہنڈی آلمیرباز ؛
آلمیرباز ہنڈی، سردار میرباز کی نسل سے منسلک ہے جو غیرت و حمیت، علم و حکمت، اصول پسندی، اور عدل و انصاف کی اعلیٰ مثال کے طور پر پہچانی جاتی ہے یہ ہنڈی رہنمائی، فلاحِ عامہ، اور علمی و فکری روشنی کی مشعلِ راہ ہے جس نے اپنی بصیرت اور کردار سے ہر دور میں عزت و وقار کا مقام قائم کیا۔
5. ہنڈی نصرآل ؛
سردار نصراللہ خان کی نسل سے منسلک ہے جو غیرت مند، پرامن اور اتحاد کی علامت ہے یہ ہنڈی داخلی و خارجی تعلقات میں استحکام ترتیب اور سماجی انصاف کی ضمانت ہے۔
Sardar Muhammad Waqar Advocate
SJP Legal News Desk
Pakistan
کلــرال نامہ
کلــرال نامہ